بنگلورو (فکروخبر نیوز):کرناٹک کی سدارامیا قیادت والی کانگریس حکومت کے خلاف مسلم تنظیموں نے وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے محاذ کھول دیا ہے۔ کرناٹک فیڈریشن آف مسلم آرگنائزیشنز کے بینر تلے سنیچر کے روز بنگلورو کے تاریخی ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان ‘کرناٹک مسلم کنوینشن’ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مرکزی عنوان تھا: "کانگریس حکومت نے کیا وعدہ کیا تھا؟ کیا کیا؟ اور اب آگے کیا؟"۔ اس موقع پر ریاست کی 48 مسلم تنظیموں کے نمائندوں اور دانشوروں نے شرکت کی اور حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر ایک 100 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
مسلم تنظیموں نے وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مسلم برادری نے یکطرفہ طور پر کانگریس کی حمایت کی تھی، جس کے بعد تعلیم اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں کچھ جزوی بہتری ضرور دیکھی گئی، لیکن مسلم برادری کے بنیادی مسائل جیسے تحفظ، وقار، روزگار، مذہبی آزادی، مسلم ریزرویشن اور سیاسی نمائندگی اب بھی حل طلب ہیں۔
کنوینشن میں جاری کردہ رپورٹ میں اہم مطالبات درج ذیل ہیں:
مسلم ریزرویشن کی بحالی: بی جے پی حکومت کے ذریعہ ختم کیے گئے 2B زمرے کے تحت 4 فیصد مسلم ریزرویشن کو فوری اور باقاعدہ طور پر بحال کیا جائے۔
حجاب پر واضح نوٹیفکیشن: اگرچہ مئی میں حکومت نے یونیفارم سے متعلق آرڈر واپس لینے کا اعلان کیا تھا، لیکن ابھی تک تحریری اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے طالبات اور ان کے خاندان تذبذب کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں پی یو سی ایل (PUCL) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس تنازع کی وجہ سے 16 سے 18 سال کی 1010 مسلم طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔
نفرت انگیزی کے خلاف کارروائی: آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کے ذریعے نکالی جانے والی اشتعال انگیز ریلیوں اور مساجد کے سامنے سے گزرنے والے جلوسوں پر سخت روک لگائی جائے۔ تنظیموں نے الزام لگایا کہ کانگریس ‘سافٹ ہندوتوا’ کی سیاست کر رہی ہے، جہاں صرف ایف آئی آر درج ہوتی ہے لیکن مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوتی۔
اقلیتی بجٹ اور وقف تحفظ: اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا جائے اور اوقافی جائدادوں کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرانے کے لیے ‘اسٹیٹ وقف لینڈ ریکوری مشن’ شروع کیا جائے۔
پروگرام کے جوائنٹ کنوینر تنویر احمد نے کانگریس کے مسلم لیڈروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں کرنا اور تصاویر کھنچوانا مسائل کا حل نہیں ہے۔ مسائل کے حل کے لیے برادری کے کارکنوں اور ماہرین کے ساتھ بامعنی بات چیت ہونی چاہیے۔” انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کنوینشن کو ناکام بنانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور سوشل میڈیا پر منسوخی کے فرضی پوسٹرز بھی پھیلائے گئے۔
دوسرے جوائنٹ کنوینر حارث صدیقی نے واضح کیا کہ یہ پروگرام کسی پارٹی یا مسلم وزیر کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً ملت کے مسائل اور ان کے مستقبل کے حل کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ کنوینشن میں ساحلی کرناٹک سمیت ریاست بھر سے ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں یاسین ملپے، شیو سندر، جلیل نداف، عتیق الرحمن ، مظفر، کے اے اشرف، رفیع الدین کدرولی، معراج الدین پٹیل اور عنایت اللہ شاہ بندری (بھٹکل) قابل ذکر ہیں۔




