ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو فون،ملائیشیا کے دورے کی دعوت

کرناٹک کی نئی سیاسی قیادت اور حکومت کو بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے جب ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے اتوار کے روز کرناٹک کے نو منتخب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو فون کر کے عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی۔ اس اعلیٰ سطحی گفتگو کے دوران ملائیشیا اور کرناٹک ریاست کے درمیان باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے، تجارتی روابط کو مضبوط بنانے اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر (CMO) کی طرف سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم نے ڈی کے شیوکمار کو تعاون کے مختلف شعبوں پر مزید پیش رفت کے لیے ملائیشیا کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اس گفتگو کی ایک مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ملائیشیا کے معزز وزیر اعظم کی طرف سے نئی ذمہ داریوں پر نیک خواہشات کا اظہار ان کے لیے باعث مسرت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گفتگو کا بنیادی محور کرناٹک اور ملائیشیا کے مابین بالخصوص اعلیٰ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، ایجادات (اننوویشن) اور دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان قریبی روابط کو گہرا کرنا تھا۔ کرناٹک اور بنگلورو کو عالمی سطح پر آئی ٹی اور تعلیمی مرکز مانا جاتا ہے، اس لیے ملائیشیا کی جانب سے اس پیش رفت کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

تعلیمی روابط کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ملائیشیا کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد اس وقت کرناٹک کے مختلف نامور تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ طلبہ کی یہ موجودگی دونوں خطوں کے مابین شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور تعلیمی شعبے میں نئے معاہدوں کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ملائیشین وزیر اعظم کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت ریاست میں غیر ملکی طلبہ کو بہترین اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور تعلیمی شعبے میں اس تعاون کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آٹھ مرتبہ کے قانون ساز ڈی کے شیوکمار نے تین جون کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد سے انہیں اندرون و بیرون ملک سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی تہنیتی پیغام موصول ہوا ہے جس پر انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔ ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ وہ جلد ہی نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے تاکہ ریاست کے ترقیاتی ایجنڈے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے مرکزی حکومت کا تعاون اور فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔

مرکزی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کھینچ تان کے ماحول میں وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی امور پر ایک پختہ اور تعمیری موقف اختیار کیا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم مودی کی جانب سے کانگریس پر کی جانے والی سیاسی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے واضح کیا کہ ترقی کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ہم سیاست کریں گے اور نہ ہی مرکزی حکومت کو کرنی چاہیے، بلکہ سب کو مل کر ریاست اور عوام کی ترقی کے مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم کی دعوت اور وزیر اعلیٰ کے اس متوازن رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرناٹک کی نئی حکومت ریاست کو عالمی اور قومی سطح پر ایک نئی سمت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

شیئر کریں۔