بنگلورو: کرناٹک میں اقلیتی برادریوں کو درپیش چیلنجز، مذہبی آزادی پر حملوں اور بڑھتی ہوئی منافرت کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم اور عیسائی قیادت نے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ آرک بشپ ہاؤس بنگلورو میں ‘کرناٹک ریجن مسلم اوکوٹا’ کے عہدیداران اور بنگلورو کے آرک بشپ پیٹر مچاڈو سمیت دیگر عیسائی رہنماؤں کے درمیان منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا۔
اجلاس کے دوران دونوں اقلیتی برادریوں کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے اور درپیش مسائل پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے مذہب تبدیلی مخالف قوانین (Anti-conversion Law) کے مبینہ غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کا سہارا لے کر شرپسند عناصر کی جانب سے اقلیتی طبقے کے افراد کو ہراساں کرنے، جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
اجلاس میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور عوامی سطح پر نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی گہری فکر کا اظہار کیا گیا۔ قائدین نے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بیداری مہم، باہمی مکالمے اور قانونی چارہ جوئی کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء کے مطابق، مساوات، مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق سے متعلق آئینی ضمانتوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اقلیتی برادریوں کا باہمی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ابتدائی اقدام کے طور پر مسلم اور عیسائی برادری کے لیے ایک مشترکہ فورم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو مشترکہ خدشات کو اٹھانے، دستاویزات کی تیاری اور حکومتی نمائندوں سے رابطہ قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ دونوں برادریوں کی قیادت نے اپنے مطالبات اور خدشات پیش کرنے کے لیے جلد ہی کرناٹک کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے اور اقلیتی ایم ایل ایز و ایم پیز کو ساتھ لے کر آئینی راستوں سے آواز اٹھانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔
اس پیش رفت اور آئندہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے چار کوآرڈینیٹرز کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ‘کرناٹک ریجن مسلم اوکوٹا’ کی نمائندگی تنویر احمد اور سہیل احمد کریں گے، جبکہ عیسائی برادری کی جانب سے فادر ونئے کمار اور اسسٹنٹ بشپ سنیل وی جیکب کو نامزد کیا گیا ہے۔




