بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) کے دوران فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال اور ووٹرز کے نام حذف کرنے کی فرضی درخواستوں پر الیکشن کمیشن نے سخت ترین موقف اختیار کیا ہے۔ کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) وی انبوکمار نے تمام الیکٹورل رجسٹریشن افسران (EROs) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں جو جان بوجھ کر فارم 7 کا استعمال کرتے ہوئے فرضی درخواستیں اور اعتراضات جمع کر رہے ہیں۔
یہ اہم فیصلہ وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے سینئر رہنما ڈی کے شیوکمار کی جانب سے بنگلورو میں سی ای او کے دفتر کے باہر کیے گئے دن بھر کے شدید احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ ڈی کے شوکمار، کابینہ کے وزراء اور ریاستی کانگریس کے دیگر قائدین نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کارکنان نے ایک منصوبے کے تحت پرنٹ شدہ فارم 7 کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں کے ہزاروں ووٹ کاٹنے کی سازش کی ہے۔ انہوں نے وجے پورہ میں 13,000 مسلم ووٹرز اور بھالکی میں ہزاروں ووٹرز کو نشانہ بنانے کے ثبوت میڈیا اور الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیے۔
سی ای او وی انبوکمار کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں ریاست کے تمام ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرز، ڈپٹی کمشنرز اور تمام 224 اسمبلی حلقوں کے ای آر اوز کو واضح کیا گیا ہے کہ ‘دی ریپریزنٹیٹو آف دی پیپلز ایکٹ 1950′ کی دفعہ 31 کے تحت غلط معلومات اور فرضی بیانات کی بنیاد پر فارم جمع کرانے والوں کے خلاف فوری قانونی قدم اٹھایا جائے۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960’ کے رول 20 کے تحت ان معاملات کا معائنہ کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اس بابت باضابطہ احکامات اور یقین دہانی کے بعد وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپنا دھرنا ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ہر شہری کے ووٹ کے حق کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور ہم نے اپنا فرض پورا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فرضی فارم کی طباعت اور تقسیم کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ برقرار رہے گا۔




