کرناٹک کے ضلع بیلاگاوی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے دوران مبینہ طور پر 198 مسلم رائے دہندگان کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کروانے کی کوشش پر بی جے پی لیڈر روی پاٹل اور دیگر افراد کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ان الزامات کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی لیڈر اور ان کے ساتھیوں نے اقلیتی ووٹروں کو نشانہ بنانے کے لیے فارم 7 کی درخواستی گنجائش کا مبینہ غلط استعمال کیا۔ انتخابی قوانین کے تحت فارم 7 کا استعمال کسی بھی ووٹر کے اندراج پر قانونی اعتراض یا نام خارج کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
ریاست کرناٹک کے مختلف اضلاع سے انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران اسی نوعیت کے الزامات اور شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریاست بھر میں اب تک کم از کم تین باقاعدہ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ ان میں میسور کا وہ مقدمہ بھی شامل ہے جہاں ایک مقامی بی جے پی لیڈر اور دیگر پر مسلم خاندانوں کے نام رائے دہندگان کی فہرست سے خارج کروانے کی سازش، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور امن عامہ کو بگاڑنے کی کوشش کے الزامات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں دیگر اضلاع کے اندر بھی بڑے پیمانے پر نام خارج کرنے کی درخواستیں جمع کروانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بلاری میں سٹی کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر نندیش، بوتھ لیول افسر سُم لتا اور شرن بسوا پر مبینہ سازش کے تحت 7,561 فارم 7 جمع کروانے کے الزامات کے تحت قانونی جانچ شروع ہو چکی ہے۔ اسی نوعیت کی شکایت دکشن کنڑ کے بیلٹنگڈی اسمبلی حلقے سے سامنے آئی ہے جہاں کانگریس لیڈر رکشیت شیوارام نے الزام عائد کیا کہ 16 پولنگ اسٹیشنوں پر 279 فارم 7 جمع کرائے گئے جن میں سے 82 درخواستیں اوجیرے میں مسلم ووٹروں کو ہٹانے کے لیے دی گئیں۔
ریاستی سطح پر کانگریس کے سینئر رکن اسمبلی تنویر سیٹھ نے بھی اپنے حلقہ انتخاب نرسمہا راجہ میں تقریباً 10 ہزار مسلم اور دلت رائے دہندگان کے نام اسی طریقہ کار کے تحت نکالنے کی کوشش کا دعویٰ کیا ہے۔ انتخابی مبصرین کے مطابق جمہوری نظام میں ووٹ دینے کا حق ہر شہری کا بنیادی دستوری اختیار ہے، اور کسی خاص کمیونٹی کے ووٹروں کو مبینہ طور پر فہرستوں سے الگ کرنے کے واقعات اقلیتوں میں عدم تحفظ اور جمہوری نظام پر بے اعتمادی کا باعث بن سکتے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے اور دستاویزی شواہد کی جانچ کے بعد قانون کے مطابق اگلی پیش رفت عمل میں لائی جائے گی۔ انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی شفافیت برقرار رکھنے اور کسی بھی جائز ووٹر کے نام کو ناحق خارج ہونے سے بچانے کے لیے تصدیقی عمل کو مزید سخت کیے جانے کی توقع ہے۔




