بنگلورو (فکروخبر نیوز): کرناٹک میں اس سال مانسون کی سست رفتاری اور بارش کی شدید قلت نے کسانوں اور عام عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں مانسون کی ‘تازہ اپڈیٹ’ انتہائی تشویشناک ہے، جہاں مجموعی طور پر معمول سے 21 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ قومی سطح پر یہ صورتحال مزید سنگین ہے جہاں بارش کا خسارہ معمول سے 64 فیصد نیچے پہنچ چکا ہے۔ مانسون کے اس طرح کمزور پڑنے سے ریاست میں قحط سالی کے بادل منڈلانے لگے ہیں، اور ماہرینِ موسمیات نے انتباہ دیا ہے کہ ال نینو (El Niño) کے اثرات کی وجہ سے آنے والے دنوں میں پانی کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
ریاست میں مانسون کا آغاز اگرچہ 4 جون کو ہو گیا تھا، لیکن 4 جون سے 15 جون کے اہم ترین دورانیے میں کرناٹک میں صرف 19 ملی میٹر بارش درج کی گئی، جبکہ معمول کے مطابق اس وقت تک کم از کم 53 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔ یہ خسارہ ‘ساحلی کرناٹک’ (Coastal Karnataka) بشمول بھٹکل، منگلورو، اڈپی اور کاروار کے علاقوں میں سب سے زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں عام طور پر اس سیزن میں ریکارڈ توڑ بارش ہوتی ہے، مگر اس بار ساحلی پٹی میں 41 فیصد کی بڑی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملناڈ کے علاقے میں معمول کی 132 ملی میٹر کے مقابلے صرف 84.8 ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جس سے ندی نالوں اور ڈیموں میں پانی کی سطح گرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں بارش کی رفتار تیز نہ ہوئی تو اس کا براہِ راست اثر زراعت، بوائی کے سیزن اور پینے کے پانی کی فراہمی پر پڑے گا، جس کے لیے حکومت اور محکمہ زراعت کو ہنگامی حکمتِ عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔




