کرناٹک میں دودھ کے علاوہ دیگر اشیاء سے تیار پنیر کی تیاری اور فروخت پر ایک سال کی پابندی

بنگلورو:  عوام کی صحت کے تحفظ کے پیش نظر کرناٹک حکومت نے دودھ کے علاوہ دیگر اشیاء سے تیار کیے جانے والے پنیر کی تیاری، ذخیرہ، سپلائی اور ’پنیر‘ کے نام سے فروخت پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر سرینواس کے نے سرکاری حکم نامے کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔

حکم نامے کے مطابق یہ پابندی 17 اگست سے نافذ ہوچکی ہے۔ اب اس طرح کے پنیر کی تھوک یا پرچون فروخت، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے اور کھانے کی مختلف اشیا تیار کرنے میں اس کے استعمال کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

حکام کے مطابق اصلی پنیر دودھ سے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے متبادل میں دودھ کی چکنائی کے بجائے نباتاتی تیل، نباتاتی چکنائی، نشاستہ اور دیگر اجزا استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسے پروڈکٹ کو ’پنیر‘ کے نام سے فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

محکمہ فوڈ سیفٹی کے مطابق ریاست میں پنیر کے کئی نمونوں کی جانچ کی گئی، جس کے دوران معیار سے متعلق بعض خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ عوام کی صحت کے تحفظ کے پیش نظر حکومت نے ایسے پنیر پر ایک سال کے لیے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم یہ پابندی ان مخصوص مصنوعات پر لاگو ہوگی جن کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کی جانب سے کوئی الگ معیار مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ پروسیسڈ چیز، فروزن ڈیزرٹ اور مکسڈ فیٹ اسپریڈ جیسی مقررہ معیار رکھنے والی مصنوعات اس پابندی میں شامل نہیں ہوں گی۔

محکمہ فوڈ سیفٹی نے ریاست بھر کے ہوٹلوں، دکانوں اور پنیر تیار کرنے والے اداروں کو حکم پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شیئر کریں۔