بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس رہنما ڈی کے شوکمار نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کے عمل پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جاری ایس آئی آر کی آڑ میں ایک بڑی سازش کے تحت اقلیتوں، دلتوں اور درج فہرست قبائل (ST) کے لاکھوں ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس پورے عمل کو ایک "بڑا فراڈ” اور "ووٹ چوری” قرار دیا۔
ڈی کے شوکمار نے دعویٰ کیا کہ ریاست بھر میں تقریباً 45 لاکھ ووٹ حذف کرنے کے لیے فارم 7 کی فرضی اور اجتماعی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔ صرف وجے پورہ ضلع میں 14,000 درخواستیں جمع کی گئی ہیں، جبکہ 22، 23 اور 24 ستمبر کو بلک (bulk) میں فارم جمع کرائے گئے۔ انہوں نے براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جے ڈی ایس کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کارکنان بڑے پیمانے پر فارم 7 کا غلط استعمال کر کے غریبوں اور اقلیتوں کے ووٹ کاٹ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس انتخابی جرم پر فوری ایف آئی آر درج کرائے اور مکمل مجرمانہ تحقیقات کرائے۔ انہوں نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) وی انبوکمار نے اس معاملے میں فوری تحقیقات کا حکم نہ دیا تو وہ ان کے دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیلگام، بھالکی، اور میسورو میں پہلے ہی غیر قانونی طور پر نام حذف کرنے کی شکایتوں پر ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے بوتھ لیول ایجنٹس (BLAs)، کارکنان اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فارم 7 کے ذریعے ووٹ کاٹنے کی کسی بھی کوشش پر کڑی نظر رکھیں اور فوری طور پر اس کی اطلاع الیکشن کمیشن اور ان کے دفتر کو دیں۔




