بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کے روز ریاست میں ووٹر لسٹوں کی جاری خصوصی باقاعدہ نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) کی مدت ایک ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس وبھو باکھرو اور جسٹس کے ایس ہیما لیکھا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مفادِ عامہ کی عرضداشت (PIL) کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ درخواست قبل از وقت ہے، کیونکہ ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی کی مدت مقرر کرنا الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے جو ووٹر لسٹوں کی تیاری اور نظرِ ثانی کے تمام انتظامی امور کا ذمہ دار ہے۔ موجودہ مدت کافی ہے یا اس میں توسیع کی ضرورت ہے، اس کا فیصلہ بھی کمیشن ہی کرے گا، اس لیے اس مرحلے پر عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔
یہ مفادِ عامہ کی عرضداشت معروف کنڑا ادیب دیوانورو مہادیوا، مؤرخ رام چندر گوہا، میجر جنرل (ریٹائرڈ) ایس جی وو مبٹ کرے اور کنڑا اسکالر صبیحہ بھومی گوڑا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ایس آئی آر کے لیے مقررہ مدت بہت مختصر ہے، جس کے باعث ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت سے قبل تمام اہل ووٹروں کو نوٹس دینا ممکن نہیں ہوگا اور اس سے ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ 15 جون 2026 کو کرناٹک حکومت نے بھی الیکشن کمیشن کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا، جس میں انہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جو اس عرضداشت میں اٹھائے گئے ہیں۔




