کرناٹک ہائی کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے سابق ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ کے خلاف درج مجرمانہ مقدمے کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فوجداری مقدمہ کانگریس پارٹی کے ترکیہ کے شہر استنبول میں مبینہ دفتر سے متعلق کیے گئے گمراہ کن دعووں پر بنگلورو پولیس نے درج کیا تھا۔ جسٹس ایم ناگاپرسنا کی سنگل بنچ نے دونوں شخصیات کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد جمعہ کے روز ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنایا۔
اس قانونی تنازع کا آغاز مئی 2025 میں ٹی وی چینل کے ایک پروگرام اور بعد ازاں سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ہوا تھا۔ نشریات کے دوران ارنب گوسوامی نے دعویٰ کیا تھا کہ استنبول کا ایک بڑا انفراسٹرکچر دراصل انڈین نیشنل کانگریس کا پارٹی دفتر ہے۔ تاہم فیکٹ چیکنگ رپورٹس میں فوراً یہ انکشاف سامنے آیا کہ نشریات میں دکھائی جانے والی عمارت استنبول کانگریس سینٹر ہے، جو کہ استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی کی ملکیت ایک عوامی کنونشن ہال ہے اور اس کا بھارتی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس کے فوراً بعد بی جے پی کے آئی ٹی سیل سربراہ امیت مالویہ نے سوشل میڈیا پر مذکورہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ کانگریس نے ترکیہ میں دفتر کیوں کھول رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے اور راہل گاندھی کو عوام کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ اس بیانیے کے خلاف انڈین یوتھ کانگریس کے رہنما نے بنگلورو پولیس میں باقاعدہ فوجداری شکایت درج کرائی، جس پر پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا کی ان دفعات کے تحت کیس درج کیا جو فساد برپا کرنے کی نیت سے دانستہ اشتعال انگیزی اور امن عامہ کو بگاڑنے سے متعلق ہیں۔
کانگریس پارٹی کی شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ بے بنیاد دعویٰ عوام کو دھوکہ دینے، سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور قوم پرستانہ جذبات کو بھڑکا کر قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔ اگرچہ ریپبلک ٹی وی کی ڈیجیٹل ڈیسک نے اس معاملے پر ایک تکنیکی غلطی کا جواز پیش کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا تھا، تاہم شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ حساس بین الاقوامی تعلقات کی آڑ میں دانستہ طور پر چلائی جانے والی غلط مہم کے لیے محض تکنیکی غلطی کا عذر ناکافی ہے۔
یہ تنازع دراصل نئی دہلی اور انقرہ کے کشیدہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں کھڑا کیا گیا تھا۔ اگرچہ کانگریس پارٹی نے سال 2019 میں استنبول میں انڈین اوورسیز کانگریس کے تحت دفتر قائم کرنے کا ایک اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی انڈین اوورسیز کانگریس کے ریکارڈ میں اس کا کوئی وجود موجود ہے۔ ہائی کورٹ نے قانونی باریکیوں اور قانونی دفعات کے اطلاق کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ موجودہ حقائق کی بنیاد پر فوجداری کارروائی کو جاری رکھنا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے، جس کے بعد عدالت نے مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیا۔




