بنگلورو (فکروخبر) کرناٹک میں کابینہ کی توسیع کی قیاس آرائیوں کے درمیان وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور سابق وزیرِ اعلیٰ سدارامیا منگل کو کانگریس ہائی کمان کے ساتھ اہم مشاورت کے لیے دہلی روانہ ہوچکےہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنما ریاستی کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد کے ہمراہ کابینہ کی توسیع، خالی وزارتی عہدوں کی تقسیم اور اسمبلی اجلاس سے قبل سیاسی حکمتِ عملی پر پارٹی قیادت سے تبادلۂ خیال کریں گے۔
اس دوران نائب وزیرِ اعلیٰ جی پرمیشورا نے اشارہ دیا ہے کہ کابینہ کی توسیع کا عمل کانگریس ہائی کمان کی منظوری کے بعد فوری طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ناموں کی فہرست پر اعلیٰ قیادت غور کر رہی ہے اور منظوری ملتے ہی گورنر سے وقت حاصل کرکے نئے وزراء کو حلف دلانے کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کے اندر نوجوان قیادت کو آگے لانے اور تازہ چہروں کو موقع دینے جیسے نکات بھی زیرِ غور ہیں۔
واضح رہے کہ ڈی کے شیوکمار نے 3 جون کو وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا، جب سدارامیا نے منصب چھوڑ کر ان کے لیے راستہ ہموار کیا۔ اس وقت ریاستی کابینہ میں وزیرِ اعلیٰ سمیت صرف 14 وزراء شامل ہیں، جبکہ آئینی طور پر 34 رکنی کابینہ کی گنجائش موجود ہے۔ اس طرح اب بھی 20 وزارتی عہدے خالی ہیں، جنہیں اسمبلی کا اجلاس 6 اگست سے شروع ہونے سے قبل پُر کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ میں شمولیت کے خواہشمند سینئر اور نوجوان اراکینِ اسمبلی کی جانب سے لابنگ عروج پر پہنچ چکی ہے اور متعدد امیدوار دہلی میں قیام کر کے پارٹی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ اقلیتی طبقے، بالخصوص مسلم نمائندے بھی کابینہ میں مناسب نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مسلم برادری کم از کم چار وزارتی عہدوں کی خواہاں ہے، جبکہ سابق وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان بھی کابینہ میں جگہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دہلی میں ہونے والی بات چیت حتمی مرحلے تک پہنچ گئی تو خالی عہدوں کی بڑی تعداد جلد پُر کی جا سکتی ہے، اور نئے وزراء کی حلف برداری کی تقریب رواں ہفتے جمعرات یا جمعہ کو منعقد ہونے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس قیادت ریاستی اسمبلی کے نئے اسپیکر کے نام پر بھی غور کر رہی ہے، کیونکہ سابق اسپیکر یو ٹی قادر کابینہ میں شامل ہو کر وزیرِ صحت کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کابینہ کی یہ توسیع نہ صرف شیوکمار حکومت کے لیے اہم ہوگی بلکہ 2028 کے اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر پارٹی کے اندر علاقائی، سماجی توازن قائم کرنے کی کوششوں کا بھی ایک اہم مرحلہ ثابت ہوسکتی ہے۔




