بیدر (فکروخبرنیوز) ریاست کرناٹک میں جاری شدید گرمی کی لہر اور گیس سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل نے بجلی کی طلب کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ محکمہ توانائی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ اپریل (یکم تا 26 اپریل) کے دوران ریاست میں ریکارڈ 9 ہزار 101 ملین یونٹس (MUs) بجلی استعمال کی گئی، جو گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
گرمی کی شدت اور کولنگ آلات کا استعمال
ایڈیشنل چیف سکریٹری (توانائی) گورو گپتا کے مطابق اس غیر معمولی اضافے کی سب سے بڑی وجہ پری مانسون بارشوں میں تاخیر اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ گرمی سے بچنے کے لیے گھروں اور تجارتی مراکز میں ایئر کنڈیشنرز (AC) اور کولرز کا استعمال گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ کئی مقامات پر ایک سے زائد اے سی بیک وقت چلنے کی وجہ سے پاور گرڈ پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
گیس کی قلت اور انڈکشن چولہوں کا بڑھتا رجحان
بجلی کی مانگ میں اضافے کی ایک اور دلچسپ اور اہم وجہ مغربی ایشیا کی کشیدگی کے باعث گیس سپلائی میں آنے والی رکاوٹ ہے۔ گیس سلنڈروں کی قلت کے خدشے کے پیش نظر بڑے ہوٹلوں، تجارتی اداروں اور گھریلو صارفین نے بڑے پیمانے پر انڈکشن چولہوں (Induction Stoves) کا رخ کر لیا ہے۔ بیسکام (BESCOM) حکام کے مطابق بہت سے تجارتی اداروں نے بجلی کے لوڈ کی گنجائش بڑھانے کے لیے درخواستیں دی ہیں کیونکہ وہ اب روایتی گیس کے بجائے بجلی پر کھانا پکانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مانگ میں مسلسل اضافہ اور مستقبل کی صورتحال
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب (Peak Demand) میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے:
2023-24: 16,110 میگاواٹ
2025-26: 17,330 میگاواٹ
رواں سال: 18,478 میگاواٹ (ریکارڈ سطح)
محکمہ توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال چیلنجنگ ہے، لیکن وہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پری مانسون بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کی طلب میں کچھ کمی واقع ہوگی۔




