ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے تاریخی اور مذہبی اعتبار سے حساس شہر دھار میں واقع کمال مولیٰ مسجد (بھوج شالا) احاطے سے متعلق مسلم فریق کی اہم درخواست پر آٹھائیس اور انتیس جولائی کے دوران بدھ (۲۹ جولائی) کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ مسلم فریق نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مدھیہ پردیش انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے جو متبادل جگہ فراہم کی گئی ہے، وہ متنازع احاطے سے بے حد دور ہے، جس کی وجہ سے مقامی نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران مسلم فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے معاملے کی فوری نوعیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی غیر مناسب پالیسی اور دور دراز جگہ مختص کرنے کے باعث مسلسل دو جمعہ سے مسلمان اپنی باجماعت نماز ادا کرنے سے محروم رہے ہیں۔ حذیفہ احمدی نے مؤقف اپنایا کہ سڑک کے راستے سے متبادل جگہ کا فاصلہ تقریباً ۱ء۳ کلومیٹر ہے، جو کہ نمازیوں بالخصوص بزرگوں اور معذوروں کے لیے انتہائی زحمت کن ہے، لہٰذا عدالت انتظامیہ کو ہدایت دے کہ وہ احاطے کے قریب ہی کوئی مناسب اور باوقار جگہ فراہم کرے۔
دوسری جانب مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مسلم فریق کے دعووں کی تردید کی اور عدالت کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ جگہ اتنی دور نہیں ہے جتنا دعویٰ کیا جا رہا ہے، بلکہ وہ سڑک کے راستے سے محض ۹۰۰ میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ تاہم مسلم فریق کا کہنا ہے کہ عبادات اور مذہبی آزادی کی فراہمی میں اس طرح کی انتظامی رکاوٹیں نمازیوں کے بنیادی اور آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہیں، اسی لیے عدالت عالیہ اس معاملے میں مداخلت کرے۔
خیال رہے کہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے اور احاطے سے متعلق احکامات کے بعد سے مقامی سطح پر مذہبی سرگرمیوں کو لے کر کشیدگی اور انتظامی خدشات موجود رہے ہیں۔ مذہبی آزادی، عبادات کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے نقطہ نظر سے اس کیس کی سماعت کو انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ قانون دانوں کا ماننا ہے کہ ۲۹ جولائی کو ہونے والی یہ سماعت نمازیوں کی سہولت اور علاقے میں امن و امان کے توازن کو برقرار رکھنے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ثابت ہوگی۔




