اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف طلبا و طالبات کا غیر معینہ مدت کا دھرنا تیسرے دن بھی جاری رہا۔ شدید بارش اور خراب موسم کی پرواہ کیے بغیر بڑی تعداد میں طلبا یونیورسٹی کے صدر دروازے (مین گیٹ) پر ڈٹے رہے اور حکومت و انتظامیہ کے خلاف پرامن احتجاج درج کرایا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ دھرنے کے تین دن گزر جانے کے باوجود اب تک کوئی بھی سرکاری یا انتظامی افسر ان کے مسائل اور مطالبات کی خبر لینے نہیں آیا، جس سے ان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
مظاہرے پر بیٹھے طلبا کا کہنا ہے کہ نہ تو انتظامیہ کے کسی ذمہ دار نے ان سے بات چیت کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی ان کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ طلبا نے واضح کیا کہ تعلیم کے ایک بڑے مرکز کو اس طرح نشانہ بنانا اور عمارتوں کو مسمار کرنے کا فیصلہ کسی بھی صورت درست نہیں ہے۔ احتجاج میں شامل طلبا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک ان کی مانگیں پوری نہیں ہوتیں اور کوئی تسلی بخش حل نہیں نکالا جاتا، وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ پورا تنازعہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کی تعمیراتی منظوری سے متعلق ہے۔ رام پور ضلعی انتظامیہ نے یونیورسٹی کی کل 40 عمارتوں میں سے 38 عمارتوں کو منظور شدہ نقشے کے خلاف اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں مسمار کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں یونیورسٹی انتظامیہ کو 15 دن کے اندر ان تعمیرات کو خود ہٹانے کی مہلت دی گئی ہے، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انتظامیہ نے خود بلڈوزر چلا کر عمارتیں گرانے کا انتباہ دیا ہے۔
اس مجوزہ کارروائی سے تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہزاروں طلبا کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ احتجاج میں شامل یوسف نامی طالب علم نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے مندر کو بلڈوزر سے گرانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کا آئین بچوں سے ان کا قلم چھیننے اور ان کا مستقبل برباد کرنے کی اجازت کہاں دیتا ہے۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت کو اس تعلیمی ادارے سے کوئی تکنیکی شکایت ہے تو وہ بات چیت کے ذریعے حل کی جائے، نہ کہ عمارتوں کو منہدم کر کے طلبہ کو سڑک پر لایا جائے۔
واضح رہے کہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کا ایک بڑا تعلیمی پروجیکٹ رہا ہے، جو طویل عرصے سے مختلف سیاسی اور قانونی تنازعات کا شکار ہے۔ مسلم کمیونٹی اور پسماندہ طبقات کو اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے مقصد سے قائم کیے گئے اس ادارے پر حالیہ کارروائی کو طلبا تعلیمی نقصان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ طلبا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی عناد سے اوپر اٹھ کر خالصتاً تعلیمی نقطہ نظر سے اس معاملے پر نظرثانی کرے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔




