کنداپور(پریس ریلیز) جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور میں طلبہ کی دینی، علمی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مختلف شعبہ جات میں وقتاً فوقتاً تربیتی وعملی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر اللجنۃ اللطافیہ کے زیرِ اہتمام بزمِ قرآن کے عنوان سے منتخب طلبہ کے درمیان مظاہرۂ ترتیل کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔
واضح رہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کے معروف تین طریقے ہیں: حدر، تدویر اور ترتیل۔ حدر میں نسبتاً تیز رفتاری، تدویر میں درمیانی رفتار، جبکہ ترتیل میں اطمینان، ٹھہراؤ، تجوید کے تمام قواعد کی مکمل رعایت، حروف کی صحیح ادائیگی، حسنِ صوت اور معانی میں تدبر کے ساتھ تلاوت کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾، یعنی "قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔” اسی لیے ترتیل کو تلاوتِ قرآن کا بہترین اور مؤثر انداز قرار دیا گیا ہے۔
جامعہ میں جہاں دیگر علمی، ادبی اور عملی میدانوں میں طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے، وہیں شعبۂ قراءت میں بھی طلبہ کو خوش الحان، باصلاحیت اور مشاق قاری بنانے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر اس مظاہرۂ ترتیل کا اہتمام کیا گیا، جس میں 15 منتخب طلبہ نے نہایت خوش الحانی، حسنِ ادائیگی اور تجوید و ترتیل کے اصولوں کی پابندی کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔
پروگرام کے ناظم، عالیہ رابعہ کے طالب علم ایان سلمہ نے ترتیل کے اصول و ضوابط، آدابِ تلاوت اور حسنِ قراءت کی اہمیت پر نہایت جامع انداز میں روشنی ڈالی اور طلبہ کو تجوید کے قواعد کی پابندی کے ساتھ تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرنے کی تلقین کی۔
پروگرام کے اختتام پر ناظمِ جامعہ حضرت مولانا عبیداللہ ابوبکر ندوی نے نہایت بصیرت افروز اور ایمان افروز نصیحت فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ جب قرآنِ کریم کو تجوید، ترتیل اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست دلوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایسی تلاوت سننے والوں کے قلوب کو سکون، اطمینان اور روحانی سرور حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے خوش آواز عطا کی ہو، اس کی قرآنِ کریم کی تلاوت کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے گلوکاروں کی آوازیں اور دلکش موسیقی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ایک خوش الحان قاری کی اقتدا میں نماز ادا کرنے سے دل کو جو سکون، خشوع اور اطمینان نصیب ہوتا ہے، وہ کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوسکتا۔
مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اچھی آواز اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس لیے اس کی حفاظت اور قدر کرنا ہر صاحبِ آواز کی ذمہ داری ہے۔ غیر مناسب اور نقصان دہ اشیاء کھا پی کر یا ایسے اعمال اختیار کر کے آواز کو خراب کرنا، بھاری کرنا یا اس کی لطافت کو ختم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی ناقدری ہے۔
آخر میں آپ نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ جن طلبہ کی آواز فطری طور پر زیادہ اچھی نہیں ہے، وہ بھی اگر محنت، مسلسل مشق اور تجوید کے اصولوں کی پابندی کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں تو وہ ان خوش آواز طلبہ سے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں کے باوجود محنت نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر اخلاص، محنت اور صحیح انداز سے قرآن پڑھنے کی ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی استطاعت کے مطابق اس میدان میں بھرپور کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
پروگرام کے اختتام پر مظاہرۂ ترتیل میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں قیمتی دینی کتابوں اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ اس موقع پر طلبہ کی محنت، شوق اور حسنِ قراءت کو خوب سراہا گیا اور آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ میدانِ قراءت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی گئی۔
پروگرام علمی، تربیتی اور روحانی اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔ اس نورانی محفل نے طلبہ میں تجوید، ترتیل اور حسنِ قراءت کا ذوق مزید بیدار کیا اور حاضرین کے دلوں میں قرآنِ کریم سے محبت اور تعلق کو تازگی بخشی۔ شرکائے محفل نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ طلبہ کی قرآنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے مواقع میسر آئے۔




