بھٹکل (فکروخبر نیوز) جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبۂ حفظِ قرآن کے سینئر اور ہردلعزیز استاذ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا (چنّا) منگل کی شام انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر سے جامعہ اسلامیہ، اس کے طلبہ، اساتذہ، سابقہ حفاظ اور بھٹکل کے دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مرحوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بینائی سے محروم تھے، تاہم حفظِ قرآن، تدریس اور طلبہ کی تربیت کے میدان میں انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ عوامی اور تعلیمی حلقوں میں ’’نابینا اشفاق صاحب‘‘ کے نام سے معروف تھے اور اپنی خوش اخلاقی، اخلاص اور محنت کی وجہ سے طلبہ و اساتذہ میں یکساں مقبول تھے۔
اطلاعات کے مطابق حافظ اشفاق صاحب منگل کے روز حسبِ معمول جامعہ اسلامیہ پہنچے اور تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ دوپہر کے وقت طبیعت ناساز ہونے پر کچھ دیر آرام کیا، تاہم طبیعت میں بہتری نہ آنے کے باعث عصر سے قبل گھر واپس چلے گئے۔ بعد ازاں طبیعت مزید بگڑنے پر انہیں بھٹکل کے ویلفیئر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بہتر علاج کے لیے منگلورو لے جانے کا مشورہ دیا۔ منگلورو منتقلی کی تیاریوں کے دوران انہیں ایمبولینس میں سوار کیا گیا اور وہیں انہوں نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔
حافظ محمد اشفاق مرحوم نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تقریباً 29 سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران ان کی نگرانی میں سینکڑوں طلبہ نے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی اور ملک و بیرونِ ملک مختلف دینی مراکز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی وفات کو جامعہ اسلامیہ کے لیے ایک بڑا علمی اور تربیتی خسارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے ذمہ داران نے مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 8 جولائی بروز بدھ جامعہ اسلامیہ اور اس کے زیرِ انتظام تمام مکاتب میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی، جبکہ جمعرات سے معمول کے مطابق تدریسی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ ان شاء اللہ کل بروز بدھ صبح دس بجے جامع مسجد بھٹکل میں ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان، شاگردوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔




