مولانا عبدالاحد فکردے ندوی اور مولانا جعفر صوان رکن الدین ندوی کے اثر انگیز خطابات
بھٹکل(فکروخبرنیوز) مسلمانوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہر ایک چیز پر غالب ہو،اگر مسلمان محبتِ خدا اور محبتِ رسول جیسے سرمایے سے عاری ہیں تو پھر یہ ان کے لیے بہت ہی بڑی محرومی کی بات ہے ۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ ثانویہ میں اللجنۃ العربیۃ (خورد) بڑے درجات کے طلبہ کے لیے منعقد کی گئی ایک اہم تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے استاد جامعہ اسلامیہ مولاناعبد الاحد فکردے ندوی نےان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلبہ کو عملی تربیت پر اپنی توجہ مبذول کرانے کی تاکید کرتے ہوئے نمازوں کی پابندی، سنتوں کا خیال اور بالخصوص تلاوت قران کا اہتمام کرنے پر زور دیا۔ مولانا نے کہا کہ علم محض ذہانت سے نہیں آتا بلکہ اس کے لیے سب سے پہلے ادب کا ہونا لازمی ہے۔ ادب کے ذریعے سے ایک کند ذہین اور کم استعداد کا طالب علم بھی دنیا میں اللہ کے دین کی اشاعت کا بڑا کام کر جاتا ہے. لیکن اساتذہ کے ادب سے محروم بڑے ذہین سے ذہین طلبہ بھی معاشرے میں اپنی افادیت کو دیتے ہیں۔ مولانا نے زور دے کر کہا کہ مدارس کے طلبہ دین کے سفیر اور اسلام کے نمائندے ہوتے ہیں لہذا ان کے عمل کو لوگ بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور ان کو نمونہ بناتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے اعمال اور اخلاق پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا عبدالاحد فکردے ندوی نے علماء کرام اور اکابر کے اثر انگیز واقعات کے حوالے سے بہت ہی قیمتی نصیحتیں کیں،
اسی طرح ثانویہ کے چھوٹے درجات کے طلباء کے لیے منعقد تربیتی نشست میں ثانویہ کے استاد مولانا جعفر صوان رکن الدین ندوی نے طلباء کو بہت ہی اہم اور قیمتی باتیں بتائیں۔ انہوں نے توحید رسالت اور والدین اور اساتذہ کے ادب اور احترام سمیت تعلیم میں یکسوئی اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی ترغیب دی۔ مولانا نے یومیہ اعمال کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہاکہ عبادات پر مداومت بڑی چیز ہے ۔
دونوں نشستوں میں ثانویہ کے اساتذہ سمیت طلبہ بڑی تعداد میں شریک تھے۔
اجلاس کا آغاز ثانویہ کے طالب علم ابوبکر کی تلاوت سے ہوا تھا اس کے بعد رائف شیخ نے نعت رسول کا نذرانہ پیش کیا اور حافظ اسعد قاضی نے بھی نعتیہ کلام کے ذریعے محفل کو منور کیا۔ دوپہر 12 بجے یہ پروگرام اختتام کو پہنچا۔




