محصور غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیلی افواج نے اپنی عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مختلف گنجان آباد علاقوں، بے گھر افراد کے خیموں اور شہری چوکیوں پر ڈرون حملوں اور شدید بمباری سے مزید چھ نہتے فلسطینیوں کو شہید جبکہ درجنوں کو زخمی کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تازہ حملے غزہ شہر، جبالیا، دیر البلح، اور رفح کے علاقوں میں کیے گئے، جہاں ہسپتالوں کے اطراف اور شہری آبادیوں کو بلااشتعال نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں بچوں اور سول اداروں کے ملازمین سمیت عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے کے مصدقہ شواہد سامنے آئے ہیں۔
شمالی غزہ کے علاقے جبالیا النزلہ میں کلینک کے عقب میں شہریوں کے ایک اجتماع پر اسرائیلی ڈرون سے حملہ کیا گیا، جس میں عامر الحورانی نامی نوجوان شہید ہو گیا۔ اسی طرح مواصی رفح میں ریڈ کراس کے فیلڈ ہسپتال کے قریب قائم ساحلی پولیس کی ایک چوکی پر جنگی طیاروں نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں رفح کوسٹل پولیس کے انچارج 37 سالہ کیپٹن عبد الجواد حاتم جودہ موقع پر شہید اور پانچ دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ وزارتِ داخلہ و قومی سلامتی نے اپنے فرض شناس افسر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے شہری خدمات کے نظام کو مفلوج کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔
وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں شارع البرکہ پر اسرائیلی ڈرون کی جانب سے داغے گئے میزائل کا نشانہ ایک چودہ سالہ کمسن لڑکا محمد ریاض ابو حماد بنا، جو موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس حملے میں ایک بچی شدید زخمی ہو گئی جس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ادھر غزہ شہر کے شمال مشرقی محلے التفاح میں عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے خیموں پر کی جانے والی بمباری میں عبد اللہ محمد خمیس جابر اور عماد محمد زاید فارس جابر شہید ہوئے، جبکہ دار الارقم اسکول کے قریب ایک اور ڈرون حملے میں ماجد الصباغ نامی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کے علاوہ تل الہوا میں اردنی ہسپتال کے نواح میں شہریوں کے مجمع پر بھی میزائل داغے گئے جس سے متعدد افراد خون میں نہا گئے۔
زمینی صورتحال اس قدر مخدوش ہو چکی ہے کہ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ جنوبی غزہ کے خان یونس، نمساوی قبرستان کے قریب واقع پناہ گزین کیمپوں اور حمد سٹی کے مشرق میں اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں نے اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کی، جس سے بے سرو سامان بیٹھے خاندانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ غزہ شہر کے مشرقی حصوں میں بارود کی مدد سے دو بڑی کثیر المنزلہ عمارتوں کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا گیا، جبکہ مخیم المغازی کے نزدیک الزعفران مسجد کے جوار میں ایک رہائشی مکان کو مسمار کیا گیا۔ فائرنگ کے ان واقعات میں 62 سالہ معمر شہری محسن علی ابراہیم المصدر اور دیگر خواتین و بچے بھی گولیوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوئے۔
غزہ میں صحت کے حکام کے مطابق نام نہاد سیز فائر اور سفارتی معاہدوں کے دعووں کے باوجود قابض افواج کی مسلسل خلاف ورزیوں سے عام شہریوں کی اموات اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور سول پروٹیکشن کے اداروں کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی بارہا تنبیہات کے باوجود فوری جنگ بندی اور بنیادی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جس سے غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی بقا کے سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
عالمی برادری اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ نہتے شہریوں، بچوں اور طبی و امدادی عملے پر ہونے والے ان منظم حملوں کو جنگی جرائم کی فہرست میں شامل کروا کر بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے ذریعے اسرائیل کو جوابدہ بنائیں۔




