جنگ بندی کے چند دن بعد اسرائیل کا بڑا قدم، جنوبی لبنان میں نئی سرحد قائم

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ’یلو لائن‘ کے نام سے ایک نئی فوجی سرحد قائم کر دی ہے، جسے غزہ میں پہلے سے نافذ فوجی نظام سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہے، جس کا مقصد کئی ہفتوں سے جاری شدید جھڑپوں کو روکنا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز پہلی مرتبہ اس نئی لائن کی تفصیلات جاری کیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ’یلو لائن‘ ایک ایسی حد بندی ہے جو اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں اور دیگر علاقوں کے درمیان قائم کی گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس لائن کے دوسری جانب سے کچھ افراد اسرائیلی حدود کی طرف بڑھے، جنہیں فوج نے خطرناک عناصر قرار دیا۔ اسرائیل کے مطابق ان افراد کی نقل و حرکت جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی، جس کے بعد مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کی گئیں۔

اسرائیل نے واضح کیا کہ دفاعی نوعیت کی کارروائیاں جنگ بندی کے اصولوں کے خلاف نہیں ہیں۔ تاہم لبنان اور خطے کے مبصرین اس مؤقف پر سوال اٹھا رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسی کارروائیاں جنگ بندی کو کمزور کر سکتی ہیں۔ جنوبی لبنان میں پہلے ہی کشیدہ حالات موجود ہیں اور کسی بھی نئی فوجی پیش رفت سے حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔

’یلو لائن‘ دراصل ایک زمینی فوجی حد بندی ہے جس کے ذریعے اسرائیل نے یہ طے کیا ہے کہ اس کی فوج کہاں تک موجود رہے گی اور اس سے آگے کے علاقوں کو خطرناک زون تصور کیا جائے گا۔ اسی طرز کی ایک لائن غزہ میں بھی 10 اکتوبر سے نافذ ہے، جہاں اس تقسیم نے علاقے کو مختلف حصوں میں بانٹ دیا تھا۔ اب لبنان میں بھی اسی ماڈل کو اختیار کرنا خطے میں نئی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 16 اپریل سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہے۔ اس سے قبل چھ ہفتوں تک شدید لڑائی جاری رہی، جس دوران اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے کیے جبکہ جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائیاں بھی ہوئیں۔ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے بعد حملے روک دیے ہیں، تاہم معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات ضروری ہیں تاکہ جنگ بندی کو پائیدار بنایا جا سکے، اسرائیلی فوج کی واپسی ممکن ہو، قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے اور سرحدی تنازعات حل کیے جا سکیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

لبنانی حکام کے مطابق اس حالیہ جنگ میں اب تک تقریباً 2300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ جنوبی شہروں، خصوصاً نبطیہ، میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ایسے میں ’یلو لائن‘ کے قیام نے خطے میں امن کے امکانات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

شیئر کریں۔