اسرائیل میں لبنان کے خلاف جاری جنگ کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت آ گئی ہے، جہاں سنیچر کے روز سیکڑوں اسرائیلی شہری مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت سے فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق سب سے بڑا احتجاج شمالی شہر حیفا میں دیکھنے میں آیا، جہاں مظاہرین نے حکومت مخالف بینرز اٹھا کر لبنان میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق سیکڑوں افراد ہوریو جنکشن پر جمع ہوئے اور جنگ بندی، قیدیوں کی واپسی اور خطے میں امن کے حق میں نعرے لگائے۔ اسی نوعیت کا ایک اور احتجاج کارکور جنکشن پر بھی ہوا، جو حیفا کے جنوب مشرق میں وادی عارہ کے علاقے میں واقع ہے۔ وہاں بھی بڑی تعداد میں شہری جمع ہوئے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے اندر لبنان جنگ کو سنبھالنے کے طریقہ کار، بڑھتے جانی نقصان، معاشی دباؤ اور عالمی سطح پر تنہائی کے خدشات پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ طویل ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت پر اندرونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
تاہم اسرائیلی میڈیا میں گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے ایک رائے عامہ سروے کے مطابق 77 فیصد اسرائیلی لبنان کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ 12 فیصد فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ مزید 11 فیصد افراد نے اس معاملے پر کوئی واضح رائے نہیں دی۔ اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی معاشرہ اس مسئلے پر منقسم ہے، اگرچہ اکثریت اب بھی سخت مؤقف کی حامی دکھائی دیتی ہے۔
یہ مظاہرے اس وقت بھی ہوئے جب اسرائیل پر حزب اللہ کے ساتھ ہونے والی 10 روزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ جنگ بندی جمعہ کی رات مقامی وقت کے مطابق نافذ ہوئی تھی، تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان میں بعض افراد کی نقل و حرکت جنگ بندی کے خلاف تھی، جس کے جواب میں متعدد حملے کیے گئے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 2 ہزار 294 سے زائد افراد ہلاک، 7 ہزار 544 زخمی جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسرائیل کے اندر ہونے والے یہ احتجاج اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ داخلی سیاست میں بھی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، اور اگر حالات یہی رہے تو حکومت کو مزید عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



