مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا متنازع اور سخت گیر قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل ایوی بلوتھ نے اتوار کے روز ایک خصوصی فوجی حکم نامے پر دستخط کیے جس کے بعد یہ قانون مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی فوجی عدالتوں کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) کی جانب سے 30 مارچ 2026 کو اس متنازع قانون کی منظوری کے چند ہفتوں بعد سامنے آئی ہے۔
دستیاب رپورٹس اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس نئے فوجی حکم نامے کے تحت ان فلسطینیوں کو لازمی سزائے موت سنائی جائے گی جن پر اسرائیلیوں پر جان لیوا حملوں کا الزام ثابت ہوگا۔ اس قانون کو اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بین گویر اور دیگر انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں کی طویل اور منظم مہم کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ نئے قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد پھانسی کے ذریعے کیا جائے گا اور عدالتی فیصلے کے بعد اسے 90 دن کے اندر نافذ کرنا لازمی ہوگا۔
اسرائیلی حکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ سخت قدم سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں حملوں کو روکا جا سکے، لیکن دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور متعدد عالمی رہنماؤں نے اس قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ناقدین نے واضح کیا ہے کہ یہ قانون واضح طور پر نسل پرستانہ ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مغربی کنارے میں چونکہ فلسطینیوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں، اس لیے وہاں اسرائیلی سول قانون کا براہ راست اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے فوجی کمانڈر کے ذریعے یہ حکم نامہ جاری کرایا گیا ہے۔
اس قانون کے اطلاق نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ خطے میں دوہرا نظام انصاف تیزی سے مضبوط کیا جا رہا ہے جس کا واحد ہدف فلسطینی عوام ہیں۔ حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ قانون اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ اس کی زد میں صرف فلسطینی آئیں گے جبکہ یہودی آباد کاروں کے جرائم پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ سول رائٹس گروپس نے اس عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے انسانی جانوں کے ضیاع میں اضافہ ہوگا اور مقدمات کی شفافیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
اس متنازع فیصلے کے نفاذ کے خلاف اسرائیلی سپریم کورٹ میں قانونی چیلنجز بھی سامنے آ چکے ہیں جہاں شہری حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو غیر آئینی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے مسلسل مذمت اور سنگین تشویش کے باوجود اسرائیلی حکومت اس خطرناک پالیسی پر کس حد تک قائم رہتی ہے۔ اس اقدام نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی خدشات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔


