اسرائیلی سیاسی اور سیکوریٹی حکام نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی اور انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے اپنے متنازع منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک نئی سفارتی چال چلی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 13 کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، تل ابیب میں اعلیٰ سطح کے حکام نے اس منصوبے کے لیے اب تک استعمال ہونے والی اصطلاح ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ (Voluntary Migration) کو تبدیل کر کے اسے ’’آزادانہ نقل و حرکت کا منصوبہ‘‘ (Free Movement Plan) کا نیا نام دے دیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس لسانی تبدیلی کا واحد مقصد عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مغربی ممالک کی جانب سے جبری نقل مکانی پر لگائے جانے والے الزامات کی شدت کو کم کرنا اور اس مجرمانہ منصوبے کو دنیا کے لیے قابل قبول بنانا ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس اور سیکوریٹی اداروں سمیت تمام متعلقہ محکموں کو باقاعدہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ آئندہ کسی بھی سرکاری خط و کتابت یا سفارتی رابطوں میں پرانی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کریں۔ باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو امید ہے کہ اس اصطلاحی تبدیلی کے بعد ان ممالک کے سخت موقف میں نرمی آسکتی ہے جنہوں نے ماضی میں فلسطینیوں کی غزہ سے منتقلی کے منصوبوں کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ اور جمہوریہ کانگو سمیت کئی غریب افریقی ممالک سے رابطے کر کے انہیں مالیاتی پیکج کے عوض فلسطینیوں کو پناہ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن عالمی دباؤ کے باعث یہ سفارتی کوششیں بری طرح ناکام ہو گئی تھیں۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں طویل فوجی کارروائیوں کے باوجود حماس کی موجودگی اور اس کا اثر و رسوخ برقرار ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل اب یہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے غزہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی سیکوریٹی اداروں نے حکومت کو ایک جامع پلان پیش کیا تھا جس کے تحت فلسطینیوں کو زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے غزہ سے باہر منتقل کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ اسرائیلی حکومت اس پورے عمل کو مسلسل دنیا کے سامنے ایک آپشن کے طور پر پیش کرتی رہی ہے کہ اگر کوئی فلسطینی اپنی مرضی سے جانا چاہے تو اسے روکا نہ جائے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی، حماس، تمام عرب ممالک اور اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں نے اسرائیل کی اس نئی اصطلاح کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک بڑا دھوکہ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جس خطے میں مسلسل بمباری ہو رہی ہو، جہاں ہسپتال، اسکول اور مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہوں اور جہاں سخت ترین اقتصادی ناکہ بندی کے ذریعے قحط کے حالات پیدا کر دیے گئے ہوں، وہاں کسی بھی ہجرت کو ‘رضاکارانہ’ یا ‘آزادانہ’ کہنا عالمی قوانین اور انسانیت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ یہ دراصل نسل کشی اور جنگی جرائم کی ایسی دیدہ دلیری ہے جس میں متاثرین کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں جاری اس انسانی بحران پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور اسرائیل کو عالمی عدالتِ انصاف سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر نسل کشی کے مقدمات کا سامنا ہے۔ اسرائیل ان تمام الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے، تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ نام تبدیل کرنے کی یہ تازہ ترین کوشش ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل غزہ کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرنے کے اپنے ایجنڈے پر قائم ہے اور وہ فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق اور زمین سے محروم کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔




