(فکروخبر نیوز) ڈاکٹر طیب جوکاکو کے داماد ڈاکٹر عبداللہ السید (Dr. Abdul El-Sayed) نے امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے یو ایس سینیٹ کے پرائمری انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارٹی کی نامزدگی اپنے نام کر لی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکی تاریخ میں کسی بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے امریکی سینیٹ کے لیے نامزد ہونے والے پہلے مسلمان امیدوار بن گئے ہیں۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر بھٹکل میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر طیب جوکاکو مشہور سیاسی رہنما مرحوم شمس الدین جوکاکو کے بیٹے ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ السید نے سخت مقابلے میں پارٹی کی سینئر رہنما اور رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز کو شکست دی، حالانکہ ان کی مخالف امیدوار کی حمایت میں اسرائیل نواز طاقتور لابی امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) اور اس سے وابستہ گروپوں نے کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ نتیجہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند (Progressive) نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اسرائیل نواز لابی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ السید نے محدود وسائل، عوامی رابطہ مہم اور چھوٹے عطیہ دہندگان کے تعاون سے یہ کامیابی حاصل کی۔
41 سالہ ڈاکٹر عبداللہ السید مشی گن میں پیدا ہوئے اور مصری نژاد تارکینِ وطن کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی جبکہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ڈیٹرائٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور وین کاؤنٹی ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں، جبکہ 2018 میں مشی گن کے گورنر کے انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ سارہ جوکاکو پیشے کے اعتبار سے ماہرِ نفسیات ہیں اور ان کا تعلق بھٹکل کے معروف جوکاکو خاندان سے ہے۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر عبداللہ السید نے سب کے لیے معیاری طبی سہولیات (Medicare for All)، معاشی انصاف، سماجی تحفظ، کم آمدنی والے طبقات کی فلاح اور انسانی حقوق جیسے مسائل کو نمایاں رکھا۔ غزہ جنگ کے دوران انہوں نے اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر بھی تنقید کی، جس کی وجہ سے انہیں ترقی پسند حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ سینیٹر برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن سمیت کئی ممتاز ترقی پسند رہنماؤں نے بھی ان کی حمایت کی۔
اب نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈاکٹر عبداللہ السید کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز سے ہوگا، جو اپنی جماعت کی جانب سے بلا مقابلہ امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ مقابلہ نہ صرف مشی گن بلکہ پورے امریکہ کی سیاست کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مشی گن ایک فیصلہ کن (Swing State) ریاست ہے۔ اگر ڈاکٹر عبداللہ السید کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر بن جائیں گے، جبکہ ان کی کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے لیے بھی ایک بڑی سیاسی فتح سمجھی جائے گی۔




