تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ عسکری کارروائیوں کے خلاف سخت ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کسی بھی قسم کا حملہ ہوا تو یہ جاری جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے سے باہر دور تک پھیل جائے گی۔ ایرانی عسکری قیادت کا یہ دوٹوک بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عارضی جنگ بندی کے باوجود شدید تناؤ کا ماحول ہے اور ایران نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی سالمیت پر آنچ آنے کی صورت میں اس کا جواب محض مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز ہوگا۔
دوسری جانب چین میں مامور ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری حساس سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات انتہائی پیچیدہ اور تاریخی طور پر نازک رہے ہیں۔ اس کے باوجود دوست ملک چین نے اسلام آباد کی جانب سے شروع کیے گئے سفارتی ثالثی کے عمل میں ایک انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ بیجنگ عام طور پر تبھی کسی بین الاقوامی ثالثی عمل کا حصہ بننا پسند کرتا ہے جب اسے پسِ پردہ کسی مثبت، سنجیدہ اور پائیدار نتیجے کی قوی امید ہو۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ موجودہ نازک سفارتی و ثالثی عمل دراصل ایران، پاکستان اور چین کے مابین بہترین سفارتی تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سہ فریقی تعاون کے ذریعے خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے گی، لیکن تہران کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے عسکری طور پر مکمل تیار ہے۔
اس تند و تیز سفارتی ماحول کے درمیان اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر اپنی عسکری تیاریوں میں غیر معمولی تیزی لانے کا اشارہ دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک اعلیٰ سطح کا ہنگامی سیکورٹی اجلاس طلب کیا جس میں فوج، فضائیہ اور خفیہ دفاعی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اہم اجلاس میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے مختلف پہلوؤں اور اس کے تناظر میں اسرائیل کی آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خطے کی اسی سنگین صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے ملکی سلامتی کے امور کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی عدالتی پیشی بھی منسوخ کر دی ہے جبکہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے سیکیورٹی خطرات کے سبب اپنا طے شدہ دورۂ نیویارک فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔
داخلی محاذ پر اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے موجودہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بل کو ابتدائی منظوری دے دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا یہ اہم بل خود نیتن یاہو کی حکمراں اتحادی جماعت کی جانب سے ہی پیش کیا گیا تھا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بل کی ابتدائی منظوری کے بعد ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے، تاہم آئینی ضابطوں کے تحت ابھی اس بل کو قانون بننے کے لیے مزید تین مراحل کی پارلیمانی منظوری سے گزرنا ہو گا، جس کے بعد ہی انتخابی عمل کا حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔
عالمی سفارتی محاذ پر ایک اور اہم پیش رفت کے تحت ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے باقاعدہ مدعو کیا گیا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سفارتی دعوت نامے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دعوت عباس عراقچی کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے دی گئی ہے جس کی صدارت اس ماہ چین کے پاس ہے۔ بین الاقوامی امن اور علاقائی سلامتی کے انتہائی اہم موضوع پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں دنیا بھر کی نظریں ایران کے موقف پر ہوں گی، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ عباس عراقچی اس اجلاس میں خود ذاتی طور پر شرکت کریں گے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔



