مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کرنے پر کانگریس کی دو مسلم خاتون کونسلروں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب میونسپل کارپوریشن کے بجٹ اجلاس کے دوران دونوں کونسلروں نے قومی نغمہ گانے سے انکار کیا، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ ہوا اور سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق کانگریس کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوضیہ شیخ علیم نے اجلاس کے دوران ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کیا۔ اس پر بی جے پی کونسلروں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ایم جی روڈ تھانہ میں شکایت درج کرائی اور دونوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے شکایت کی جانچ کے بعد بی جے پی ارکان کے بیانات قلمبند کیے اور کانگریس کونسلروں سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پولیس نے دونوں کے خلاف دفعہ 1/196 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
یہ تنازع صرف ایوان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے آئینی اور مذہبی آزادی کے سوال کو بھی جنم دیا۔ دونوں کونسلروں نے واضح کیا کہ ان کا مذہب انہیں ’وندے ماترم‘ گانے کی اجازت نہیں دیتا اور ہندوستانی آئین انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کی گئی، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ’وندے ماترم‘ کو لے کر ملک میں وقتاً فوقتاً تنازعات سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر اس کے کچھ اشعار کو لے کر مذہبی بنیادوں پر اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے حالیہ برسوں میں اس گیت کو سرکاری تقریبات میں گانے پر زور دیا گیا ہے، جس کے بعد ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس معاملے کے اثرات نہ صرف مقامی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف اسے قومی احترام کا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ ایوان میں بھی اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے فوضیہ شیخ کو ایک دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ اسپیکر نے ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے گانا لازمی قرار دیا۔




