نریندر مودی نے اپنی ’سخت محنت‘ سے روپے کو نچھلی سطح تک پہنچا دیا: کانگریس

ہندوستانی کرنسی روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کے روز روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی اب تک کی سب سے نچلی سطح 95.63 پر پہنچ گیا۔ اس تاریخی گراوٹ کے بعد ملک کی سیاسی فضا گرم ہوگئی ہے اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تیکھا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو معاشی محاذ پر ناکام قرار دیا ہے۔

کانگریس نے اپنے آفیشل ہینڈل سے جاری پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ نریندر مودی نے اپنی ’سخت محنت‘ سے روپے کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں وہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ روپے کی یہ بدترین حالت دراصل ملک کی ڈگمگاتی معیشت کا واضح ثبوت ہے۔ کانگریس نے مزید کہا کہ مسلسل گرتی ہوئی ساکھ اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ حکومت ملک کے مالیاتی نظام کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں روپیہ منگل کو کاروبار کے آغاز پر ہی دباؤ کا شکار نظر آیا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 95.57 پر کھلا اور جلد ہی 35 پیسے مزید ٹوٹ کر 95.63 کی ریکارڈ سطح پر جا گرا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ہندوستانی کرنسی پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ خام تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر روپے کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔

روپے کی اس گراوٹ کا اثر صرف کرنسی مارکیٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ شیئر مارکیٹ میں بھی شدید مندی دیکھی گئی۔ ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا حساس انڈیکس سنسیکس ابتدائی سیشن میں 525 پوائنٹس سے زائد گر گیا، جبکہ نفٹی میں بھی 164 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے کیونکہ ڈالر انڈیکس میں مسلسل بہتری روپے سمیت دیگر ایشیائی کرنسیوں کے لیے چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں یہ کمی آنے والے دنوں میں مہنگائی کے گراف کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔ درآمدات مہنگی ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، جو براہ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہوں گی۔ کانگریس نے اسی نکتے کو بنیاد بنا کر حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

شیئر کریں۔