ہندوستان نے اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک خودمختاری کو مستحکم کرنے کے لیے سرحدوں سے لے کر خلا تک ایک ہمہ گیر اور جدید ترین فوجی نگرانی کا نظام قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔ نئی دہلی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، اس نئے دفاعی ڈھانچے میں ہائی ریزولوشن سیٹلائٹس، طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے الیکٹرو آپٹیکل سنسرز، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے جدید ترین تجزیاتی نظام کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک کا بنیادی مقصد کسی بھی خطرے کا قبل از وقت پتہ لگانا اور فوری دفاعی کارروائی کو ممکن بنانا ہے۔
دفاعی ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں عسکری برتری صرف بھاری ہتھیاروں یا روایتی میزائلوں پر منحصر نہیں رہی، بلکہ حریف کی ہر نقل و حرکت پر بروقت نظر رکھنا سب سے اہم عنصر بن چکا ہے۔ الیکٹروٹیک انڈسٹری کے ماہر سندیپ شاہ کے مطابق ملک کی متنوع جغرافیائی سرحدوں، بشمول دشوار گزار ہمالیائی چوٹیوں، وسیع صحراؤں، جنگلات اور طویل ساحلی پٹیوں پر روایتی نظام کے ذریعے چوبیس گھنٹے نظر رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اب ان تمام خطوں کو خودکار سنسرز اور فضا میں متحرک ڈرونز کے مشترکہ دائرے میں لایا جا رہا ہے تاکہ چھوٹے خطرات اور جدید ڈرونز کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نگاہ رکھی جا سکے۔
اس جامع دفاعی حکمت عملی میں سب سے کلیدی کردار مصنوعی ذہانت کو سونپا گیا ہے۔ جدید سنسرز اور سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے اربوں گیگا بائٹس ڈیٹا کا انسانی سطح پر فوری تجزیہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اس وسیع ڈیٹا کو سیکنڈوں میں فلٹر کر کے مشکوک سرگرمیوں، غیر معمولی فوجی نقل و حرکت اور ممکنہ خطرات کی نشاندہی خودکار طور پر کریں گے، جس سے کمانڈ سینٹرز کو فیصلے کے لیے قیمتی وقت مل سکے گا۔
اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کے مطابق اس نظام کی تیاری میں اندرون ملک تیار کردہ ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ملٹری ڈیٹا کی مکمل رازداری برقرار رہے۔ حساس ترین انٹیلی جنس اور سنسر ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مقامی سسٹمز پر انحصار کرنا معلوماتی خودمختاری کے لیے ناگزیر مانا جا رہا ہے۔




