علم نافع کا قرآنی تصور

محمد نصر الله ندوی

2۔معرفت الہی کا حصول

انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے یہ جانے کہ اس دنیا کو اور اس میں بسنےوالے انسانوں کو کس نے پیدا کیا،اس کا خالق ومالک کون ہے،اس کا پروردگار اور پالنہار کون ہے،یعنی علم کا دوسرا مقصد الله کی ذات کی پہچان ،علم کا مقصد شہرت ،عزت ،دولت اور منصب کا حصول نہیں ہے،اگر کوئی ان مقاصد کیلئے تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کا انجام گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔الله تعالی فرماتا ہے :انما یخشی الله من عبادہ العلماء ( فاطر : 28) یعنی الله کےبندوں میں اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہوتے ہیں۔ انسان جب رب کو پہچان لیتا ہے تو وہ اس سے ڈرتا ہے،اس لئے کہ علم انسان کے شعور کو بیدار کرتا ہے،عقل کو جلا دیتا ہے ،روح کو غذا دیتا ہے،اسلئے جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کی سطح میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ،انما یتذکر اولوا الالباب۔(زمر:9)یعنی اے نبی آپ کہ دیجئے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں،صرف عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

3- علم کا مقصد عمل ہے۔

علم کا مقصد اس پر عمل کرنا ہے،اپنے کردار و اخلاق کی اصلاح ہے،زندگی کے رخ کو درست کرنا ہے،یہ کوئی رسمی ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں ہے،یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے،الله تعالی کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ انسان ایسی بات کرے ،جس پر وہ خود عمل نہیں کرتا ہے،کبر مقتا عند الله ان تقولوا مالا تفعلون ( صف :3) دوسری جگہ فرمایا کہ تم دوسروں کو بھلائی کاحکم دیتے ہو اور خود کو فراموش کردیتے ہو ؟ اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم( بقرہ :44) اس نے انسان کی کامیابی کیلئے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ عمل صالح کا نمونہ پیش کرے ،علم کے نور سے اپنی زندگی کو اور پورے سماج کو ،بلکہ پوری انسانیت کو روشنی عطا کرے ،علم صرف الفاظ کی بازیگری کا نام نہیں ،بلکہ وہ کردار کی حقیقت کانام ہے۔4- علم کا مقصد ہدایت اور نور ہےعلم انسان کو تاریکی سے نکالتا ہے اور ہدایت کے نور سے منور کرتا ہے،وہ انسان کو گمراہی سے بچاتا ہے اور حق کے راستہ پر گامزن کرتا ہے،علم ایک ایسی روشنی ہے،جس سے کفروشرک کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں،حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ ہم نے آپ کو ایک کتاب دی ہے تاکہ آپ کے اس کے ذریعہ پوری انسانیت کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالیں،الر کتاب انزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور ۔(ابراہیم :1) ۔علم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر حق وباطل میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے،الله ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمات الی النور ۔ (بقرہ :257) یعنی الله تعالی ایمان والوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالتا ہے ۔

5 -علم کا مقصد عقل کا صحیح استعمال کرنا ہے

قرآن نے بہت سے مقامات پر غور وفکر کی دعوت دی ہے،عقل کے استعمال پر ابھارا ہے،تا کہ ذہن ودماغ کے دریچے واشگاف ہو جائیں ،فکر ونظر کے گوشے کھل جائیں اور انسان اندھی تقلید سے محفوظ رہے،افلا یتدبرون القرآن ،ولو کان من عند غیر الله لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا(نساء:82)تو کیا وہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ تم کتاب پڑھتے ہو لیکن عقل کا استعمال نہیں کرتے ،وانتم تتلون الکتاب افلا تعقلون( بقرہ:44)یعنی تم کتاب پڑھتے ہو لیکن عقل سے کام نہیں لیتے۔

6- علم کا مقصد دوسروں کو گمراہی سے بچانا ہے

علم کا اصل مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو گمراہی سے نکال کر راہِ ہدایت دکھانا ہے۔قرآن مجید بار بار اہلِ علم کو یہ ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ حق کو واضح کریں اور باطل کو بےنقاب کریں۔جو شخص علم کو دوسروں کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے استعمال کرتا ہے، وہی حقیقی معنی میں علم کا حق ادا کرتا ہے۔اسی لیے علماء کو امت کا رہبر کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے معاشرے کو فتنہ و ضلالت سے بچاتے ہیں۔وماکان المؤمنون لینفروا کافة فلولا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین ،ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون۔ ( توبہ :122)اور اہل ایمان کے لیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ سب کے سب نکل آئیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ نکلتا ان کی ہر جماعت میں سے ایک گروہ تاکہ وہ دین کا فہم حاصل کرتے اور وہ اپنے لوگوں کو خبردار کرتے جب ان کی طرف واپس لوٹتے تاکہ وہ بھی نافرمانی سے بچیں۔ایمان والوں کو حکم دیا گیا کہ جو بات ان کو معلوم نہ ہو ،اس کے بارے میں اہل علم سے دریافت کرلیں ،فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔( نحل: 43)یعنی تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تم کو معلوم نہ ہو۔قرآن میں انبیاء کی ذمہ داری یہ بیان کی گئی کہ ان کا کام علم کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنا ہے،وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین۔(انعام:48) یعنی ہم نے نہیں بھیجا رسولوں کومگر خوشخبری دینے والا اور عذاب سےڈرانے والا بنا کر ۔معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے کے بعد اگلا کام لوگوں تک علم منتقل کرنا ہے۔اس امت کو پوری انسانیت کی بھلائی کیلئے برپا کیا گیا ہے،اور سب سے بڑی بھلائی انسانوں کو گمراہی سے بچانا ہے،کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتؤمنون بالله ۔( آل عمران : 110) یعنی تم بہترین امت ہو،تم کو لوگوں کی نفع رسانی کیلئے نکالا گیاہے،تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور الله پرایمان رکھتے ہو۔

7-علم کا مقصد ،علم نافع کا حصول ہے

قرآن علم کو نافع اور غیر نافع کے اعتبار سے تقسیم کرتا ہے،رسول جو علم لیکر آئے وہ علم نافع ہے،اسی علم کے ذریعہ انسان شیطان کے مکروفریب سے بچتا ہے اور دنیا میں ترقی کے منازل طے کرتا ہے ،ارشاد ربانی ہے،علم الانسان مالم یعلم۔ ( علق:5) یعنی انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ خدا کی جانب سے ملا ہے،اس لئے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امانت کو اگلی نسلوں تک منتقل کرے۔

8- علم کا مقصد حکمت ودانشمندی سے آراستہ ہونا ہے

الله تعالی کا ارشاد ہے:ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة۔( نحل : 125) ،اپنے رب کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہتر طریقے پر گفتگو کیجئے۔ دوسری جگہ فرمایا گیا : لقد من الله علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمة ۔ آل عمران :164) مشہور مفسر ابن جریر طبری فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد کلام الله اور حدیث رسول ہے،اور اچھے وعظ سے مراد وہ نصیحت جس میں خوف اور وعید بھی ہو ،تا کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور الله کے عذاب سے بچنے کی کوشش کریں،اور بحث کی ضرورت ہوتو خوش اسلوبی سے کی جائے،وجادلھم بالتی ھی احسن۔ ( نحل :125)یعنی ان سے اچھے طریقہ پر بحث کیجئے۔ ایک جگہ فرمایا گیا:یؤتی الحکمة من یشاء ومن یؤت الحکمة فقد اوتی خیرا کثیرا ،ویذکر الا اولوالالباب۔ ( بقرہ : 269)

9- غیر مسلم اور نافرمان کو بھی نرمی اور حکمت کے ساتھ دعوت دینا

الله تعالی نے حضرت موسی اور ہارون علیھما السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی۔( طہ :44) ،یعنی تم دونوں فرعون کےساتھ نرمی سے بات کرو۔

10-علم کا مقصد جذبہ شکر پیدا کرنا ہے

الله تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:اذکر نعمتی علیک وعلی والدیک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المھد وکھلا ،واذ علمتک الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل۔ ( مائدہ :110)یعنی اے عیسی بن مریممیری نعمت کو یاد کرو،جو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کی ہے،جب میں نے روح القدس کے ذریعہ تائید کی،تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی،اور جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور انجیل کی تعلیم دی،آپ مٹی سے پرندوں کی صورت بناتے تھے ،پھر اس میں دم کرتے تو وہ الله کے حکم سے چڑیا بن کر اڑجاتا ،مردوں کو آواز دیتے تو وہ بحکم الہی زندہ ہوجاتا ،الله کی اس نعمت پر شکر ادا کیجئے۔11- آخرت کی کامیابیاصل علم وہ ہے جو انسان کو الله سے جوڑے ،عمل کی راہ دکھائے اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرے،قرآن کی نظر میں دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے،وما الحیاة الدنیا الا متاع الغرور،اس کے نزدیک کامیابی کا معیار آخرت کی کامیابی ہے،یعنی جنت کا حصول اور جہنم سے نجات۔ارشاد باری تعالی ہے: فمن زحزح عن النار وادخل الجنة فقد فاز،وما الحیاة الدنیا الا متاع الغرور۔ ( آل عمران :185) یعنی جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہی اصل میں کامیاب ہے اور دنیا کی زندگی صرف ایک دھوکہ ہے۔ یہی اصل میں مؤمن کا اسٹیٹس ہونا چاہئے،اور یہ اسٹیٹس علم اور ایمان سے بلند ہوتا ہے۔یرفع الذین آمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات۔( مجادلہ :11)یعنی الله تعالی تم میں جو اہل ایمان اور اصحاب علم ہیں،ان کےدرجات بلند کرتا ہے۔آخری باتعلم چونکہ بہت بڑی دولت ہے،اسی پر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارو مدار ہے،اس لئے ہمیشہ اس میں اضافہ کی دعا کریں۔رب زدنی علما ۔ ( طہ : 114) اے ہمارے رب ہمارے علم میں اضافہ فرما۔

شیئر کریں۔