(سابق ایڈیٹر سہ روزہ دعوت،دہلی)
1948-2026
از : محمد ناصر سعید اکرمی
بانی و ناظم معہد الامام حسن البنا بھٹکل
سوشل میڈیا کے ذریعے اس خبر نے د لوں کو رنجور کردیا کہ ہفت روزہ دعوت کے ایڈیٹر جناب عبدالحق پرواز رحمانی کی روح 5/فروری 2026ء کوقفس عنصری سے پروازکر گئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون
پیدائش:
عبدالحق پرواز رحمانی کی پیدائش اکولہ ضلع مہاراشٹر کے مقام میں 48 19 ء میں ہوئی۔
تعلیم:
مرحوم کی تعلیم اپنے وطن میں ہائی اسکول سے شروع ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے کوششیں جاری رہیں،آپ نے جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کیا، پھر روہیل کھنڈ یونیورسٹی یو پی سے اردومیں ایم اے کیا، پریاگ راج یونیورسٹی سے ان کو ساہتیا رتن بھی ملا، اسی طرح مرحوم نے الہ اباد یونیورسٹی سے ڈپلومہ ان جرنلزم کی سند حاصل کی اور اردو ہندی کے علاوہ عربی فارسی اور مراٹھی سے بھی واقفیت حاصل کی، مرحوم نے جماعت اسلامی کے کاموں سے وابستہ رہتے ہوئے تعلیم کو جاری رکھا۔آدمی کے اندر ذوق ہو تو اس کے لیے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ پھر صحافتی میدان سے جڑے، جماعت کے ترجمان”سہ روزہ دعوت“ کو اپنا صحافتی میدان بنایا اور 30 سال تک یعنی اپنی وفات تک اس کے مدیر رہے۔
مرحوم پروازرحمانی صاحب اونچی پرواز کے مالک تھے، آپ کی تحریر اورسوچ اونچی تھی،اور یہ ان کی تحریر وں بالخصوص ان کے اداریے ”فکرونظر“ سے ظاہر ہورہی تھی، نہایت سنجیدہ اور علمی وقار کے مالک پرواز رحمانی صاحب کئی ستودہ صفات کے حامل تھے، راقم سے کئی بار فون پر گفتگو بھی ہوئی ہے، فون پر اس طرح بات کرتے کہ برسوں کی شناسائی ہے، آپ کی باتیں نہایت سنجیدہ ہوتیں، آپ کی گفتگو نہایت باوقار اور جچی تلی ہوتی،آپ ایسی شخصیت کے مالک تھے جو دیر تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
آپ نے قلم کے ذریعے قوم وملت کو جگایا، دین کی خدمت کی، اچھے اخلاق اور سنجیدگی ووقار کا درس دیا، اللہ تعالی ان کی جملہ کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے۔ دعوت جیسے مؤقر رسالے کا ایڈیٹر ہونا ہی آدمی کے علمی وقلمی وقار کو چار چاند لگا دیتاہے۔
دعوت کے پہلے ایڈیٹر جناب مولانامحمد مسلم تھے،جونامور اور منجھے ہوئے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے، ان کے اشہب قلم سے نکلے ہوئے ”فکر ونظر“کے اداریوں کو پڑھنے کے لیے قارئین منتظر وبے تاب رہتے،ان کی وفات(1986) کے بعد مولانا سلمان اعظمی ندویؒ اس کے ایڈیٹر بنے، ان کی وفات(1989) کے بعد ہمارے پرواز رحمانی صاحب اس کے مدیر بنے، پرواز صاحب نے صحافت کا حق ادا کرتے ہوئے احساس ذمہ داری کے ساتھ اس کو نبھایا اوروفات تک اس کے مدیررہے،اللہ تعالی ان کو اس کا بہترین صلہ عطاکرے۔
پروازصاحب نے قلم کے ذریعے جو خدمات انجام دی ہیں، ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے مفید سے مفیدتر بنانے کے لیے ان کی تحریر وں کو شائع کرکے عام کرنا ہوگا۔
پرواز رحمانی مرحوم کی وفات پر تعزیتی خط محترم امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی کے نام ارسال کیا گیا تھا۔
اللہ تعالی آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اورجماعت کو مرحوم کا متبادل عطافرمائے
راقم کی درخواست پر پرواز صاحب نے طیبات کے مولانا غزالی نمبرمیں اپنے تأثرات بعنوان علم وسادگی کے پیکر مولانا غزالی ارسال فرمایاتھا، اس کو یہاں ہوبہو نقل کیاجاتاہے۔
علم و سادگی کے پیکر مولانا محمد غزالیؒ
امت مسلمہ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی دینی،علمی اور اصلاحی خدمات میں گزرتی ہے لیکن اس طرح کہ وہ خود کو نام ونمود اور خود نمائی سے عمدًا دور رکھتی ہیں اور بالآخر نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے خالق ومالک سے جا ملتی ہیں۔حضرت مولانا محمد غزالی ندوی علیہ الرحمہ ایسی ہی شخصیات میں سے تھے جو اپنی منفرد زندگی کے بیش قیمت 74سال پورے کرنے کے بعد گزشتہ ماہ رمضان المبارک(8/جون 2018ء)کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔آپ کا تعلق جنوبی ہند کے معروف علمی اور مردم خیز شہر بھٹکل سے تھا لیکن زندگی کا زیادہ وقت تعلیمی مصروفیات اور علمی واصلاحی خدمات کی وجہ سے شمالی ہند میں گزرا۔آپ کو تبلیغی جماعت کے مرکز واقع بستی حضرت نظام الدین سے تعلق خاطر تھا۔
مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العماء لکھنؤ سے حصولِ تعلیم کے بعد مرکز میں طویل عرصہ قیام رہا جہاں امرائے جماعت اور دیگر عظیم المرتبت شخصیات سے قربت رہی۔آپ نے مرکز جماعت کی کئی اہم ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔آپ کا رہن سہن سادہ اور انداز تکلم دلنشین تھا۔ندوۃ العلماء میں داخلے سے پہلے آپ نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں مولانا عبدالحمید صاحب ندوی علیہ الرحمہ سے سات سالہ نصاب محض چار سال میں مکمل کرلیا مولانا محمد غزالی علیہ الرحمہ کا پورا خاندان دینی و علمی تھا اور نسلوں سے اسی میدان میں خدمت انجام دے رہا تھا۔یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
آپ شہر بھٹکل کے سابق قاضی حضرت ابوبکر خطیبیؒ کے صاحبزادے تھے۔آپ کے بھائی قاضی محمد احمد خطیبیؒ بھی شہر قاضی رہ چکے تھے۔مولانا محمد غزالیؒ نہایت سنجیدہ اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ دینی کاموں کو بہت قدر کی نظرسے دیکھتے تھے خواہ کہیں بھی اور کسی کے بھی ذریعہ ہو رہے ہوں۔آپ کو حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ سے خاص عقیدت تھی اور آپ سے اجازتِ خلافت بھی حاصل تھی۔آپ کے انتقالِ پُرملال سے ہر درد مند مسلم ومومن کو سخت تکلیف پہنچی ہے۔اللہ آپ کی مغفرت فرما کر آخرت میں بلند درجات نصیب فرمائے۔
((نقوش طیبات مولانا غزالی نمبر728))




