درد وہ سہہ گئے

ہفتہ دس دن پہلے یہی کھلتا پھول ماں کی گود سے لپٹا رہتا، ہلکی آوازوں سے بہن بھائیوں کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ، انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ، ایک چھوٹا سے خاندان اپنی زندگی سکون سے بسر کررہا تھا ، باپ دن بھر اپنے کام میں اورماں اپنے بچوں کی پرورش میں ، اللہ نے اولاد سے نوازا تھا اور زندگی کی ہر نعمت انہیں میسر بھی تھی ، بارہ سال کی ازدواجی زندگی میں شاید ہی کوئی بڑی تکلیف کا سامنا ہوا ہو۔
 بچہ کو معمولی سا نمونیہ بخار کے ساتھ خالق کائنات کی کڑی آزمائش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ویلفیر اسپتال میں چار دن تک آنے والے طوفان سے بے خبر بچے کا علاج چلتا رہا،  پھر ڈاکٹروں کی صلاح سے مینگلور  اسپتال منتقل کیا، یہاں تک تو والدین شاید مطمئن تھے، مینگلور اسپتال میں صحت یابی کی امید جگی، لیکن خلاق کائنات کے ارادوں کے آگے کس کی چلتی ہے، جانچ کے دوران بچے کو دل کی بیماری کی تشخیص ہوئے جسے سن کر والدین کے ہوش وحواس اڑگئے، رپورٹس لے کر مختلف ڈاکٹروں سے مشورہ کیا، امید کی کرن اب بھی باقی تھی، منٹوں میں ایمبولینس سائرن بجاتا مینگلور سے بنگلور کی مسافت طے کرنے لگا، ہر کوئی بچے کی صحت یابی کے لیے رب العالمين سے دعا گو تھا ، نہ جانے والدین کے لئے کیسا درد بھرا وہ سفر رہا ہوگا جس میں انکا لخت جگر بے بس oxygen کے سہارے زندگی کی سانسیں لے رہا ہو، خدا خدا کرکے سلامتی سے سفر طئے ہوا، دل کے علاج سے پہلے بخار کا اترنا ضروری تھا، اسپتال کا عملہ اپنی پوری کوششیں لگا رہا تھا اور والدین اللہ سے اپنے نیکیوں کے حوالے دے کر بچے کی زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے ، چار پانچ دنوں کی کوششیں اور امیدیں اس وقت دم توڑگئیں جب ملک الموت روح قبض کا فرمان لئے آپہنچا اور لمحہ بھر میں بچے کی روح جسم سے الگ ہوگئی۔ ، ایک ہفتہ سے ماں بچے کی بچنے کی جو آس لے بیٹھی تھی، ٹوٹ گئی،  باپ جس امید سے علاج کر رہا تھا،  سراب بن کر نظروں کے سامنے گھومنے لگا ۔ مایوس، ٹوٹے دل ، ٹپکتے آنسو اور خلاق کائنات کے حکم کے آگے بے بس لیکن اللہ کے فیصلہ پر راضی برضا اپنے بچے کو لے کر واپس شہر لوٹنا پڑا،  دس دن پہلے یہی لخت جگر کبھی پیاری سی مسکان، کبھی جنبش اور کبھی اپنی مستی سے والدین کی مسکراہٹ کا سبب تھا آج وہی بچہ انکو مایوس، خوشیوں کے مقابلے آزمائش اور صبر کی تلقین دے کر  واپس نہ لوٹنے والے سفر پہ گامزن تھا۔

شیئر کریں۔