از: محمد عرفان ایس ایم ندوی
استاد: شعبہ حفظ جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد بھٹکل
بعض انسانوں کی زندگی ایک خاموش تفسیر ہوتی ہے، وہ اپنے وجود سے یہ بتاجاتے ہیں کہ عظمت کا تعلق جسمانی طاقت یا ظاہری حسن سے نہیں، بلکہ اس دل سے ہے جو اللہ کے کلام سے آباد ہو ، جن کی زندگی کسی شور و غوغا کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ خاموش رہ کر بھی دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور کی روشنی بکھیرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ دنیا سے رخصت ہوکر بھی اپنی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنی معذوری اور کمزوری کو کبھی شناخت نہیں بناتے بلکہ اپنے عزم وحوصلوں اورصبرو اخلاص کو اپنی اصل پہچان بناتے ہیں ۔اپنی عمر گزارتے ہیں وہ ایک پیغام ہوجاتی ہے۔ وہ اپنی ظاہری کسی محرومی کو کمزوری کا سبب نہیں بناتے بلکہ اسے قربِ الٰہی کا وسیلہ بناتے ہیں ۔ وہ انسان بڑا خوش نصیب ہے جس کی زندگی اللہ کے دین کے لئے وقف ہوجائے ۔ کیوں کہ اُس کی موت اختتام نہیں بلکہ ابدی زندگی کا آغاز ہوتی ہے۔ ہمارے عزیز دوست ہم درس حافظ محمد اشفاقؒ بھی انہی نفوسِ قدسیہ اور درخشاں نفوس میں سے تھے،جو ہمیں یہ سبق دے گئے کہ بینائی آنکھوں کی نہیں، دلوں کی ہوتی ہے۔اور جس دل میں قرآن کا نور اتر جائےوہ دل کبھی اندھیرا نہیں رہتا ۔ ایسے لوگ دنیا سے رخصت نہیں ہوتے، بلکہ اپنی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے پیچھے بلند عمارتیں نہیں، بلکہ قرآن سے منور سینے چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ دولت نہیں، بلکہ ایسی نسلیں چھوڑ جاتے ہیں جن کے ہونٹوں پر کلامِ الٰہی جاری رہتا ہے۔ یہی ان کی حقیقی میراث ہے، یہی ان کی دائمی یادگار ہے۔مرحوم حافظ اشفاق صاحب کے چہرے پرہمیشہ اطمینان لہجے میں محبت اور طبیعت میں انکساری جھلکتی نظر آتی۔ اُنہوں نے دنیا میں نام و نمود کی خواہش نہیں کی، بلکہ خاموشی کے ساتھ اللہ کی کتاب کی خدمت کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنالیا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو آج ان شاء اللہ ان کی قبر کو بھی منور کرے گا اور قیامت کے دن ان کے لیے عزت و شفاعت کا سبب بنے گا۔جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآنِ کریم کی خدمت، اس کی تعلیم اور اس کے نور کو نسلوں تک منتقل کرنے میں بسر کردی یہ وہ سرمایہ جس کا اللہ کے پاس بہت بڑا مقام ہے۔ہم بچپن کے ساتھی تھے۔ وقت کے سفر نے بہت سے چہرے بدل دیے، بہت سے راستے جدا کر دیے، مگر حافظ ہمیشہ ایک ہی رنگ میں نظر آئے، اخلاص کا رنگ، سادگی کا رنگ، اور قرآن سے بے مثال محبت کا رنگ۔قدرت نے انہیں ظاہری بینائی سے محروم رکھا تھا، لیکن ان کے قلب کو قرآن کا مخزن اورامین بنایاتھا۔ ان کی زبان پر ہمیشہ کلامِ الٰہی کی مٹھاس رہتی، ان کا سینہ قرآن ِ کریم سے معمور تھا۔انہوں نے کبھی اپنی محرومی کو تقدیر کا شکوہ نہیں بنایا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا پر صبر اور استقامت کا عنوان بنا دیا۔ وہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت تھے کہ انسان کی اصل روشنی آنکھوں میں نہیں بلکہ دل میں ہوتی ہے، اور جس دل میں قرآن اتر جائے، وہاں اندھیروں کو ٹھہرنے کی جگہ نہیں ملتی۔
حافظ محمد اشفاقؒ کی زندگی کا سب سے روشن باب قرآن کریم کی تعلیم تھا۔ نہ جانے کتنے بچوں نے ان کی زبان سے قرآن سیکھا، کتنے حفاظ ان کی محنت کا ثمر ثابت ہوئے ہیں ، اور کتنے گھروں میں ان کی بدولت تلاوتِ قرآن کی آوازیں گونج رہی ہیں اور گونجتی رہیں گی۔ آج ان کی یہ خاموش محنت ثواب کے پھول سمیٹ رہی ہے۔ یہی وہ صدقۂ جاریہ ہے جو موت کے بعد بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔جو شخص اپنے سینے میں قرآن لے کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوتاہے اُ س کی اُمیدیں دنیا والوں سے مختلف ہوتی ہیں ۔جو قرآن کے لئے جیتاہے وہ عزّت کے ساتھ جیتاہے۔ اور جو قرآن پر مرتا ہے وہ سعادت کے ساتھ مرتاہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی خاموش زندگی سے انسانیت کو وہ سبق دے جاتے ہیں جو سینکڑوں خطبے بھی نہیں دے سکتے۔ وہ خود کم بولتے ہیں، مگر ان کا کردار بولتا ہے۔وہ بظاہر نابینا تھے مگر دلوں کو بینا کرنے والے تھے۔ان کی آنکھیں بند تھیں مگر قرآن کا نور جاگ رہاتھا۔حافظ محمد اشفاق کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی بڑی آزمائشوں سے گزارا مگر ساتھ ساتھ اسی کے شایان شان ہمت وحوصلہ بھی عطا فرمایا۔بینائی کی نعمت سے محرومی ایک ایسا امتحان ہے جسے معمولی انسان عمر بھر کا غم بنا لیتا ہے مگر حافظ اشفاق نے اِ س محرومی کو کبھی اپنی مجبوری نہیں بنایا۔ ان کی زبان پر شکوہ نہیں تھا بلکہ شکرتھا۔قدموں میں سستی نہیں عزم واستقامت تھی۔آج ان کی جدائی پر دل غمگیں ہے، لیکن ان کی زندگی کا ہر باب اُمید، استقامت اور خدمتِ قرآن کا ایسا روشن عنوان ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی حوصلہ دیتا رہے گا۔ اگر صبر کی کوئی تصویر بنائی جائے، خدمتِ قرآن کی کوئی مثال تلاش کی جائے، اور خاموش اخلاص کی کوئی تعبیر لکھی جائے تو حافظ محمد اشفاقؒ کا نام ان روشن مثالوں میں ضرور شامل ہوگا۔اُنہوں نے بڑی محنت غیر معمولی لگن اور بے مثال استقامت کے اپنے استاد جناب حافظ شمیم اختر صاحب مرحوم کے پاس حفظ کی تکمیل کی ۔ یہ صرف حفظ نہیں تھا بلکہ عزم وارادہ کی وہ فتح تھی جس نے ثابت کردیا کہ دل زندہ ہوتو جسمانی کمزوریاں انسان کی راہ نہیں روک سکتی ۔اِسی عرصے میں امامت کے منصب پر فائز ہوکر اِ س ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجام دی۔مسجد کے محراب سے اُن کی آواز اُن کی تلاوت ،اور اُن کی دعائیں کتنے ہی دلوں کے لئے سکون کا باعث بنی۔وہ صرف مسجد کے امام نہیں تھے بلکہ اپنے خاموش کردار سے یہ سکھاتے گئے کہ اللہ کی عبادت و بندگی مشکلات اور معذوری کی محتاج نہیں ہے۔ بلکہ اخلاص اور فکر کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں قرآن کی دولت عطا فرمائی تو انہوں نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ پوری زندگی اس نور کو دوسروں تک پہنچانے میں صرف کردی۔ تقریباً انتیس برس تک وہ پابندئ وقت کے ساتھ آخری لمحے تک اپنی مفوّضہ ذمہ داری درسِ قرآن میں حاضر ہوتے رہے۔ یہ محض ملازمت نہیں تھی، بلکہ قرآن سے وفاداری کا ایک مسلسل عہد تھا۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ اُنہوں نے اپنی ذمّہ داری کو بوجھ سمجھا ہو۔ ان کی حاضری صرف جسم کی نہیں، دل کی بھی حاضری تھی۔کئی ایک مرتبہ ایسا بھی دیکھا گیاکہ سوار ی کے انتظام میں کچھ خلل واقع ہونے کی وجہ سے ذاتی پیسے خرچ کرکے جامعہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے وقت پر حاضر ہوئے ہیں۔ حافظ اشفاق اِ س دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں، مگر قرآن سے وابستہ دلوں میں آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جب بھی کسی بچے کی زبان پر آپ کا سکھایا ہوا قرآن جاری ہوگا، جب بھی کسی حافظ کی تلاوت سنائی دے گی، جب بھی قرآن کا کوئی حرف کسی سینے میں محفوظ ہوگا، آپ کی خدمت کی خوشبو ان لمحوں میں محسوس کی جائے گی۔ یہی آپ کی دائمی زندگی ہے، یہی آپ کی روشن میراث ہے، اور یہی آپ کا ایسا تعارف ہے جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اس عزیز دوست کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اُن کے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازےاور اُنہیں اُن بندگانِ صالحین میں جگہ عطا فرمائے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن والے اللہ کے خاص بندے اور اس کے مقرب ہوتے ہیں۔آمین یارب العالمین۔
احساسات
از؛۔ محمد عرفان ایس ایم ندوی




