از: مختار احمد فخرو ولکوی
ملکِ ہند کی آزادی کی تاریخ محض چند سیاسی رہنماؤں، جلسوں اور سیاسی تحریکوں کی داستان نہیں، بلکہ اس تاریخ میں بے شمار علماءِ اسلام، مشائخ، دینی رہنماؤں اور مجاہدینِ آزادی کی بے لوث خدمات، قربانیاں اور جدوجہد کے ساتھ ان کا خون بھی شامل ہے۔ افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان عظیم شخصیات کے کارنامے ہماری اجتماعی یادداشت سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔
آج وقت کا نہ صرف تقاضا، بلکہ اہلِ علم کی اخلاقی، ملی ذمہ داری بھی ہے کہ نئی نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے آگاہ کیا جائے، ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی بے لوث خدمات اور بے مثال قربانیوں کو اجاگر کیا جائے، اور ان کتابوں، سوانح اور تاریخی دستاویزات کو دوبارہ منظرِ عام پر لایا جائے جن میں اس جدوجہد کی تفصیلات محفوظ ہیں۔
مثلاً تحریکِ شیخ الہند، نقوشِ حیات، اسیرانِ مالٹا، سفرنامۂ مالٹا، جمعیت علماء کیا ہے؟، تحریکِ آزادیِ ہند میں مسلم علماء کا کردار، کاروانِ حرب، علماءِ حق اور یادِ بیاض وغیرہ جیسی تصانیف اور تاریخی مواد کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح تحریکِ ریشمی رومال اور اس سے وابستہ علماء کی جدوجہد بھی ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتِ ہند اور ہمارے دیگر برادرانِ وطن کے سامنے بھی تاریخ کے اس پہلو کو کھلے طور پر پیش کیا جائے کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں، بالخصوص علماءِ اسلام، نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرنا تاریخ کے ایک اہم باب کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔بلکہ ظلم ہے،
یہی تاریخی شعور ہندوستانی مسلمانوں میں ایک نئی امنگ، نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر سکتا ہے۔ انہیں احساسِ کمتری کے دائرے سے نکل کر اپنے تاریخی کردار کا ادراک کرنا چاہیے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی صلاحیتوں اور خدمات کا بھرپور لوہا منوانا چاہیے۔
بالخصوص ان چوٹی کے علماء اور مجاہدینِ آزادی کو یاد کرنا ضروری ہے جو ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں پیش پیش رہے اور جنہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا جعفر تھانیسریؒ، مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا تاج محمد سندھیؒ، شیخ عبدالرحیم سندھیؒ، مولانا میاں عبدالحئی منصور انصاریؒ، پیر غلام مجددیؒ، ڈاکٹر سیف الدین، مولانا حبیب الرحمن ثانیؒ، علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا خیراللہؒ، مولانا بشیر احمد بھاولپوریؒ، مولانا حسین الدین اجمیریؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ، مولانا عبدالمحاسن سجادؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا شاہد میاں فخری الہ آبادیؒ، مولانا محمد قاسم شاہجہانپوریؒ، مولانا عبد الوفا شاہجہانپوریؒ، نواب زادہ خان، مولانا سیف الرحمن قاسمیؒ، مولانا محمد علی سلیمانیؒ، مولانا وحید احمد فیض آبادیؒ، مولانا عزیر گلؒ اور مولانا حکیم سید نصرتؒ سمیت ایک طویل فہرست ہے۔
یہ صرف چند نام نہیں، بلکہ ایک پورا عہد ہے؛ ایسا عہد جس میں علماء نے قلم بھی اٹھایا، قوم کی رہنمائی بھی کی، قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور آزادی کے لیے اپنی جان، مال اور آرام و آسائش تک قربان کیے۔ مولانا محمود الحسنؒ کی تحریکِ ریشمی رومال، علی برادران—مولانا محمد علی جوہرؒ اور مولانا شوکت علیؒ—کی تحریکِ خلافت، جمعیت علماءِ ہند کی جدوجہد اور طویل اسیری اس تاریخ کے نمایاں ابواب ہیں۔
لہٰذا آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اسلاف کو محض تاریخ کے اوراق میں دفن نہ ہونے دیں۔ ان کی قربانیوں کو نئی نسل تک منتقل کریں، ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور تاریخ کے ان روشن ابواب کو دوبارہ زندہ کریں۔
جس قوم کو اپنے محسنوں اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کا احساس نہیں رہتا، وہ رفتہ رفتہ اپنی تاریخ کا شعور بھی کھو دیتی ہے۔
اس لیے مسلمانانِ ہند کو چاہیے کہ وہ اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد کرتے اور نئی نسل کو یاد کراتے ہوئے احساسِ کمتری کے دائرے سے نکلیں اور قوم کو بھی اس سے نکالنے کی کوشش کریں۔ اپنے جائز، آئینی اور قانونی حقوق کے لیے پورے عزم، وقار اور حکمت کے ساتھ سامنے آئیں اور متحد ہو کر آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔
ایسا طرزِ عمل ہندوستانی سیاست میں اُن عناصر کے لیے بھی ایک سبق ہوگا جو سیکولرزم کا لبادہ اوڑھ کر برسوں سے مسلمانوں کو جھوٹی تسلیاں دیتے اور ان کے مسائل سے کھلواڑ کرتے رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان جذبات کے بجائے شعور، اتحاد، آئینی جدوجہد اور مضبوط علمی و فکری بنیادوں کے ساتھ آگے بڑھیں، تاکہ نہ صرف اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں بلکہ ملک کی سالمیت، جمہوریت اور انصاف کے تقاضوں کی پاسداری میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
اور ہم آج بھی اسی جذبے کے ساتھ یہ کہتے ہیں، اور آئندہ بھی کہتے رہیں گے:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
یہ ملک ہمارا وطن ہے؛ اس کی آزادی کی تاریخ میں ہمارے اسلاف کے خون، قربانیوں اور جدوجہد کا بھی حصہ ہے۔ اس لیے تاریخ کے ان روشن ابواب کو یاد رکھنا، انہیں نئی نسل تک پہنچانا اور ملک کی ترقی، امن، انصاف اور جمہوری استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ ادارہ)




