گجرات کے شہر احمد آباد سے پولیس کی بربریت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گجرات پولیس کے اہلکار ایک مسلم نوجوان کو پولیس گاڑی کے بونٹ سے باندھ کر اسے لاٹھیوں سے بے رحمی کے ساتھ پیٹ رہے ہیں۔ ویڈیو میں نوجوان درد سے کراہتے ہوئے "یا اللہ، بچا لو” کی دہائی دے رہا ہے، لیکن پولیس اہلکار مسلسل اس پر لاٹھیاں برسا رہے ہیں۔ یہ واقعہ احمد آباد کے ویجل پور علاقے کا بتایا جا رہا ہے جہاں پولیس نے گائے ذبیحہ کے الزام میں کارروائی کی تھی۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق ویجل پور پولیس نے منگل کی صبح ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب کھلے میدان میں چھاپہ مارا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ جھاڑیوں کے پیچھے گائے ذبیحہ میں ملوث ہیں۔ پولیس کی آمد پر کئی افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جائے وقوعہ سے 520 کلو گرام گوشت، ایک زندہ بچھڑا، تیز دھار چاقو اور کچھ گاڑیاں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں مجموعی طور پر نو افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
وائرل ویڈیو نے پولیس کے تفتیشی طریقہ کار اور ملزمان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ قانون کے مطابق کسی بھی ملزم کو سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے، لیکن ویڈیو میں پولیس اہلکار خود ہی منصف اور جلاد بنے نظر آ رہے ہیں۔ سرعام سڑک پر ملزم کو گاڑی سے باندھ کر پیٹنے کا عمل نہ صرف سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے بھی منافی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں اشتعال انگیزی اور خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
گجرات میں گائے ذبیحہ پر سخت پابندی عائد ہے، لیکن زیر حراست ملزم پر تشدد کی اس ویڈیو نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین اس واقعے کو پولیس کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کو اس طرح نشانہ بنانا اور اسے سرعام ذلیل کرنا آئین ہند کی روح کے خلاف ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق پولیس نے ابھی تک اس تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ عوامی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس غیر انسانی واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ کیا جا سکے۔




