جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں رواں سال پیش آنے والے ایک انتہائی حساس اور مبینہ یکطرفہ انکاؤنٹر میں جاں بحق ہونے والے 30 سالہ نوجوان راشد احمد مغل کی لاش کو ڈھائی ماہ بعد قبر سے نکال کر ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا، جس کے فوری بعد مقتول کی باقیات کو ان کے آبائی گاؤں کے قبرستان میں دوبارہ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر وادی میں سیکورٹی فورسز کے انکاؤنٹرس کی شفافیت اور انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خاندانی ذرائع اور مقامی انتظامیہ سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق راشد احمد مغل کی باقیات 13 جون کو عدالتی و انتظامی احکامات کے تحت قبر سے نکالی گئیں اور تمام کاغذی کارروائی کے بعد انہیں سوگوار خاندان کے سپرد کیا گیا۔ اسی رات سخت حفاظتی انتظامات اور پولیس اہلکاروں کی بھاری موجودگی میں ضلع گاندربل کے لار علاقے کے گاؤں چونٹ ولیوار میں واقع ان کے آبائی قبرستان میں خاموشی کے ساتھ دوبارہ تدفین عمل میں لائی گئی۔ علاقے میں کشیدگی اور امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر تدفین کے عمل کو انتہائی محدود رکھا گیا تھا، جس میں صرف مقتول کے قریبی رشتہ داروں اور چند چیدہ چیدہ مقامی لوگوں کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی۔
یہ پورا تنازع رواں سال یکم اپریل کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ہندوستانی فوج کی جانب سے یہ باضابطہ دعویٰ کیا گیا کہ گاندربل کے ارہامہ جنگلاتی علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ روبرو مقابلے یعنی انکاؤنٹر میں ایک مشتبہ عسکریت پسند مارا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد پولیس کو ہلاک ہونے والے شخص کی جیب سے ایک بینک کا اے ٹی ایم کارڈ برآمد ہوا، جس کی مدد سے مقتول کی شناخت راشد احمد مغل کے طور پر کی گئی۔ تاہم شناخت ظاہر ہوتے ہی راشد کے اہل خانہ نے فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں انہیں عسکریت پسند بتایا گیا تھا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ راشد ایک پرامن، قانون پسند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری تھے جن کا کسی بھی قسم کی پرتشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔
مقتول کے بھائی اعجاز احمد نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ راشد 31 مارچ کی صبح معمول کے مطابق اپنے نجی کام کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے لیکن رات گئے تک واپس نہیں لوٹے۔ اگلی صبح پولیس کی جانب سے خاندان کو ایک نامعلوم لاش کی شناخت کے لیے طلب کیا گیا، جہاں پہنچنے پر ان پر یہ انکشاف ہوا کہ جاں بحق ہونے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا سگا بھائی راشد ہے۔ اہل خانہ کے مطابق راشد ایک سماجی کارکن کی طرح زندگی گزار رہے تھے اور وہ کمپیوٹر اور دفتری کاغذی کارروائی کے ماہر ہونے کے ناطے مقامی غریب اور ان پڑھ دیہی شہریوں کو سرکاری اسکیموں، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، جاب کارڈ، بڑھاپا پنشن اور بینک قرضوں کے حصول کے لیے فارم بھرنے اور دیگر دستاویزات تیار کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے، جس کے بدلے انہیں معمولی اجرت ملتی تھی اور یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔
اس مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی خبر عام ہوتے ہی جموں و کشمیر کے سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی میں شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی سمیت کئی مقتدر رہنماؤں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ عوامی دباؤ اور سیاسی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد ریاستی محکمہ داخلہ نے معاملے کی سچائی کا پتہ لگانے کے لیے مجسٹریل انکوائری کا حکم جاری کیا تھا۔ تاہم واقعے کو مہینوں گزر جانے کے باوجود اب تک اس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو منظرِ عام پر نہیں لایا گیا ہے، جس کی وجہ سے مقتول کے خاندان اور مقامی عوام میں انصاف کی فراہمی کو لے کر شدید بے چینی اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
کشمیر کے موجودہ حالات اور ماضی میں پیش آنے والے اس طرح کے متنازع واقعات کے تناظر میں راشد مغل کے کیس نے وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال اور شہری تحفظ کے نظام پر دوبارہ بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں بے گناہ شہریوں کی جانوں کا زیاں ناقابلِ قبول ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ مجسٹریل انکوائری کی رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرے تاکہ اگر کسی سطح پر اختیارات کا غلط استعمال ہوا ہے تو ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔ سوگوار خاندان نے بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ راشد پر لگائے گئے عسکریت پسندی کے داغ کو دھونے اور انصاف کے حصول کے لیے اپنی قانونی لڑائی آخری حد تک جاری رکھیں گے۔




