مہاراشٹر کے ضلع تھانے میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں حراست میں لیے گئے ایک ہی خاندان کے چار ہندوستانی مسلمانوں کو شدید عوامی احتجاج اور سیاسی مداخلت کے بعد منگل کی دیر رات رہا کر دیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے افراد میں تین خواتین اور ایک کمسن بچہ شامل ہیں، جن کا تعلق بنیادی طور پر مغربی بنگال سے ہے۔ ان افراد کو تمام تر قانونی اور معتبر ہندوستانی دستاویزات کی موجودگی کے باوجود مقامی انتظامیہ نے ایک حراستی مرکز میں رکھا ہوا تھا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی خواتین ونگ کی یوتھ صدر روبینہ عمار پٹیل کے مطابق، حراست میں لیے گئے تمام افراد کے پاس پاسپورٹ اور دیگر تمام ضروری سرکاری شناختی کارڈ موجود تھے جو ان کے ہندوستانی شہری ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ ان دستاویزات کی تصدیق پہلے ہی مغربی بنگال کی متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کی جا چکی تھی۔ اس کے باوجود تھانے کے مقامی حکام نے ان دستاویزات کے فرضی ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے تفتیش کے نام پر ان بے قصور شہریوں کو حراست میں لے رکھا تھا، جسے مقامی تنظیموں نے غیر قانونی اور ہراسانی کی کارروائی قرار دیا۔
یہ معاملہ اس وقت عوامی سطح پر سرخیوں میں آیا جب روبینہ عمار پٹیل نے پولیس اسٹیشن کے باہر سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں انہوں نے پولیس کی اس یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائی کو بے نقاب کیا۔ ویڈیو وائرل ہوتے ہی انٹرنیٹ پر انتظامیہ کے خلاف تنقید کا سیلاب آ گیا اور جوابدہی کا مطالبہ تیز ہو گیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سینئر رہنما اور سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان سمیت دیگر ذمہ داران نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر احتجاج درج کرایا اور پولیس حکام کو تمام اصل دستاویزات پیش کیے۔
روبینہ پٹیل نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے دو خواتین مقامی سطح پر طویل عرصے سے رہ رہی ہیں اور سلائی کڑھائی کر کے اپنا گزر بسر کرتی ہیں، جبکہ دیگر دو افراد مغربی بنگال سے اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے تھانے آئے ہوئے تھے۔ پولیس کی جانب سے دیر رات گئے تک دستاویزات کی دوبارہ باریک بینی سے جانچ پڑتال کی گئی، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے تسلیم کیا کہ ان شہریوں کو حراست میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔ تمام چاروں افراد کو باعزت رہا کر کے ان کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ملک کے اندر شہریت کی تصدیق کے نام پر اقلیتوں، خصوصاً غریب اور محنت کش مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جائز ہندوستانی دستاویزات رکھنے والے شہریوں کے خلاف اس طرح کی جلد بازی میں کی جانے والی کارروائیاں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ مسلم کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریت کی تصدیق کے عمل میں پولیس کو زیادہ حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔



