کسانوں کا دہلی مارچ ملتوی، ہریانہ حکومت نے مانے کسانوں کے اہم مطالبات

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے خلاف دہلی کے کسان گھاٹ پر مجوزہ کسان مہاپنچایت کے لیے بڑھنے والے کسانوں نے فی الحال اپنا دہلی مارچ معطل کر دیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ پنجاب اور ہریانہ کے شنبھو بارڈر پر کسان رہنماؤں اور ہریانہ کے وزیر زراعت شام سنگھ رانا کی قیادت میں حکومتی وفد کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ دسیوں ہزار کسان جو پنجاب، ہریانہ اور دیگر ریاستوں سے دہلی کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے، ان کے اہم مطالبات پر انتظامیہ کی جانب سے مثبت پیش رفت کا یقین دلایا گیا ہے۔

مذاکرات کے دوران کسان یونینوں نے دو بنیادی مطالبات حکومت کے سامنے رکھے تھے۔ ان میں پہلا مطالبہ مرکزی وزیر زراعت یا اعلیٰ مرکزی حکام کے ساتھ کسان وفد کی باضابطہ ملاقات کروانا تھا، جس پر ہریانہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلے ایک ہفتے سے ۱۰ دنوں کے اندر یہ ملاقات یقینی بنائی جائے گی اور اس سلسلے میں سرکاری مکتوب بھی جاری کیا جائے گا۔ دوسرا اہم مطالبہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے کسان رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری رہائی سے متعلق تھا، جس پر صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ سے بات چیت کرکے جلد از جلد حل نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔

کسان تنظیموں کا موقف ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ ملکی زراعت، ڈائری فارمنگ، چھوٹے تاجروں اور مقامی صنعتوں کے مفادات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ کسان رہنماؤں کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ سے سستے زرعی سامان اور مصنوعات کی ہندستان آمد ممکن ہو جائے گی، جس سے مقامی کسانوں کی آمدنی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ‘دیش بچاؤ مورچہ’ کے پرچم تلے کسانوں نے مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو منسوخ کرے یا زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے مکمل ضمانت فراہم کرے۔

اس سے قبل، کسانوں کے دہلی مارچ کو روکنے کے لیے ہریانہ پولیس نے شنبھو اور کھنوری سرحدوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا تھا اور کثیر سطحی بیریئرز، کنکریٹ بلاکس اور بھاری نفری تعینات کی تھی۔ انڈو-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف پرامن احتجاج کی کوشش کے باوجود بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث ٹریفک کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی تھی۔ تاہم کسان رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت سے کسی ٹکراؤ کے بجائے پرامن طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومتی یقین دہانی کے بعد کسان رہنماؤں نے اپنی اندرونی میٹنگ میں صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ دہلی مارچ کو فی الحال معطل کیا گیا ہے، لیکن کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر طے شدہ مدت کے اندر مرکزی سطح پر ان کے تحفظات کا تدارک نہ کیا گیا اور گرفتار رہنماؤں کو رہا نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔

شیئر کریں۔