بھٹکل (فکروخبرنیوز) شہر کی عمیر جمعہ مسجد حنیف آباد میں عید الأضحیٰ کی دوگانہ فکروخبر کے ایڈیٹر انچیف مولانا سید ہاشم نظام ندوی کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ اپنے فکرانگیز خطا میں مولانا موصوف نے امتِ مسلمہ کو عید کی مبارکباد پیش کی اور اس عظیم دن کی مذہبی و ملی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے فکر انگیز خطاب میں واضح کیا کہ عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کی ایک رسم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقرب حاصل کرنے اور اپنی تمام تر خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کا ایک عظیم الشان درس ہے۔ قربانی کا اصل مفہوم یہی ہے کہ انسان رب کریم کے احکام کے سامنے اپنے ذاتی مفادات، انا اور خواہشات کو قربان کر دے۔
انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مقدس خاندان پوری امت کے لیے اطاعت، صبر اور تسلیم و رضا کا ایک ابدی اور عملی نمونہ ہے۔ حج اور قربانی کے مناسک دراصل انہی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ انہوں نے حجاج اور مقامی مسلمانوں پر زور دیا کہ اگر ایک طرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ہوں اور دوسری طرف معاشرتی رسم و رواج یا ذاتی مفادات، تو ایک سچے مسلمان کو ہمیشہ شریعتِ مطہرہ کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔
مولانا نے عیدالاضحیٰ کو اتحاد و اتفاق کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آپسی اختلافات اور تمام دیرینہ رنجشوں کو ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمان عید کے مبارک موقع پر ایک جگہ صف بستہ جمع ہوتے ہیں، اسی طرح انہیں اپنی عملی زندگی میں بھی اتحاد، بھائی چارے اور باہمی محبت کو فروغ دینا چاہیے۔ خطاب کے دوران انہوں نے قوم کے نوجوانوں کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی برادری، بزرگوں اور ملی و اجتماعی قیادت کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہیں، کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی اور استحکام میں نوجوان نسل کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
خطاب کے آخری حصے میں قربانی سے متعلق اہم شرعی مسائل بیان کرتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ عید کے اس عمل کے لیے ہمیشہ صحت مند اور ہر قسم کے عیب سے پاک جانور کا انتخاب کیا جائے اور اس عظیم عبادت میں نمود و نمائش سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ تک نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ بندوں کا تقویٰ اور اخلاص پہنچتا ہے۔ لہٰذا تمام مسلمان اس عمل کو خالص اللہ کی رضا کے لیے انجام دیں اور اس کے حقیقی مقاصد کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں۔




