خبر:بنگلورو/ نئی دہلی (فکروخبرنیوز) کرناٹک کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے تحت، کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (KPCC) کے صدر اور موجودہ نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار 3 جون کو ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ اس اہم تبدیلی کا باقاعدہ اعلان ہفتہ کو کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ جی سی چندرشیکھر نے بنگلورو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ریاست میں جاری شدید سیاسی سرگرمیوں کے درمیان اس فیصلے سے قیادت کی منتقلی پر مہر لگ گئی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجیہ سبھا ممبر جی سی چندرشیکھر نے بتایا کہ حلف برداری کی یہ باوقار تقریب راج بھون (لوک بھون) کے تاریخی گلاس ہاؤس میں منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی ہائی کمان اور اعلیٰ حکام کی مشاورت سے 3 جون کی تاریخ طے کر دی گئی ہے، جبکہ تقریب کے قطعی وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ منصب سنبھالنے کے بعد ڈی کے شیوکمار عوام کا آشیرواد لینے کے لیے ریاست کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کریں گے۔
کانگریس ورکنگ پریسیڈنٹ نے تقریب کو دکھاوے سے دور رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے منتظمین کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ حلف برداری کی تقریب کو انتہائی سادہ اور عوامی خدمت کے جذبے کے عکاس کے طور پر منعقد کیا جائے۔ کسی بھی طرح کی شاہانہ نمائش سے گریز کیا جائے گا۔
یہ اہم سیاسی تبدیلی 28 مئی کو سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے۔ گورنر تھاور چند گہلوت نے سدرامیا کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے کابینہ کو تحلیل کر دیا تھا، تاہم نئے انتظامات مکمل ہونے تک انہیں بطور نگران وزیر اعلیٰ کام جاری رکھنے کو کہا گیا تھا۔ ہفتہ کی شام بنگلورو میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی (CLP) کی اہم میٹنگ سے قبل ڈی کے شیوکمار نے لوک بھون پہنچ کر صحافیوں کو بتایا تھا کہ پارٹی کے مبصرین ہائی کمان سے حتمی منظوری حاصل کرنے کے بعد کارروائی کو آگے بڑھائیں گے۔ اس حلف برداری کے ساتھ ہی کرناٹک کانگریس میں کئی دنوں سے جاری اقتدار کی کشمکش اور مشاورت کا دور باقاعدہ ختم ہو جائے گا۔




