جاوید جمال الدین
ہندوستان اس وقت ایک ایسے سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عدالتوں کے فیصلے، ریاستی اختیارات، شہری آزادی اور انتخابی طاقت، سب ایک ہی بڑے سوال کے مختلف رخ بن گئے ہیں۔ ایک طرف حکومت کے خلاف احتجاج کو جرم بنانے کی کوششوں پر عدلیہ روک لگاتی ہے، دوسری طرف شہریت کے معاملات میں سخت قانونی معیار عام شہری کے لیے کڑی آزمائش بن جاتا ہے، اور تیسری طرف اقتدار کے مرکز پر مکمل گرفت کی سیاسی حکمتِ عملی بحث کا محور بنی ہوئی ہے۔ یہی وہ منظرنامہ ہے جس میں آج کی ہندوستانی سیاست کو سمجھنا ضروری ہو گیا ہے۔
بظاہر یہ تین الگ الگ کہانیاں ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی کڑی کے حصے ہیں۔ احتجاج کرنے والے شہری، اپنی شہریت ثابت کرنے میں الجھے ہوئے لوگ، اور پارلیمانی اکثریت کے ذریعے نظامِ سیاست پر اثرانداز ہونے والی جماعت -یہ سب اسی جمہوری تنازع کا حصہ ہیں جس میں سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنی مضبوط ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی مضبوطی شہری حقوق کو کتنا تحفظ دیتی ہے۔
بمبئی ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس بحث میں ایک اہم سنگِ میل بن کر سامنے آیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج منظم کرنا کسی شہری کو شہر بدر کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ محض قانونی نکتہ نہیں بلکہ جمہوری اصول کی واضح توثیق ہے۔ عدالت نے اس نوع کے انتظامی اقدام کو اس وقت ناقابلِ قبول قرار دیا جب پولیس کے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو کہ متعلقہ فرد کی سرگرمیوں سے عوامی نظم، جان و مال یا امنِ عامہ کو حقیقی خطرہ لاحق تھا۔
یہ فیصلہ دراصل اس رجحان پر سوال اٹھاتا ہے جس میں سیاسی اختلاف کو انتظامی خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ احتجاج، دھرنا، ریلی اور نعرہ بازی اگر پرامن دائرے میں ہوں تو وہ جمہوری معاشرے کا حق ہیں، جرم نہیں۔ عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ شہریوں کو حکومت کی مرضی کے تابع نہیں بنایا جا سکتا، اور نہ ہی ریاستی قوت کو اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ اس فیصلے میں صرف ایک experiment order ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک وسیع تر آئینی اصول کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ یعنی حکومت سے اختلاف رکھنے والا شخص دشمن نہیں ہوتا۔ اور اگر ریاست ہر احتجاج کو خطرہ سمجھنے لگے تو پھر شہری آزادی محض کتابی جملہ رہ جائے گی۔
دوسری جانب آسام کا شہریت معاملہ ہندوستان کی ایک اور پیچیدہ حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے فارنرز ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ صرف کثرتِ دستاویز کسی شخص کی بھارتی شہریت ثابت نہیں کرتی۔ درخواست گزار نے متعدد کاغذات پیش کیے تھے، جن میں انتخابی فہرستیں، زمین کی رجسٹری، پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور 1951 کے این آرسی کی نقل شامل تھی۔ مگر عدالت کے مطابق یہ تمام ریکارڈ قانونی طور پر اتنے مضبوط اور مربوط نہیں تھے کہ شہریت کے سلسلے میں تسلسل ثابت کر سکیں۔
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک شخص کا نہیں، بلکہ ایک بڑے نظام کا ہے۔ شہریت کے معاملات میں جب ذمہ داری پوری طرح فرد پر ڈال دی جاتی ہے تو وہ معاملہ صرف قانونی نہیں رہتا، سماجی اور انسانی بھی بن جاتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے پرانے ریکارڈ اکٹھے کرنا، ان کی تصدیق کرانا، اور اپنے آباؤ اجداد سے رشتہ ثابت کرنا آسان کام نہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں تاریخ، نقل مکانی اور دستاویزی ریکارڈ ہمیشہ غیر واضح رہے ہوں، وہاں یہ سوال مزید حساس ہو جاتا ہے۔
عدالت کا مؤقف اپنی جگہ قانونی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے، مگر اس فیصلے نے ایک بڑے سماجی سوال کو بھی جنم دیا ہے: کیا شہریت کا امتحان صرف دستاویزات کی تعداد سے طے ہونا چاہیے، یا اس میں انسانی حقیقت، تاریخی سیاق اور عملی رکاوٹوں کو بھی دیکھا جانا چاہیے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون اور زندگی آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔
احتجاج اور شہریت، دونوں الگ مسائل ہوتے ہوئے بھی ایک ہی سیاسی فضا میں ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کو اگر ریاستی سختی کا سامنا ہو، اور شہریت کے معاملے میں عام شہری مسلسل ثبوت فراہم کرنے کے دباؤ میں رہے، تو معاشرے میں عدمِ تحفظ بڑھنے لگتا ہے۔ ایک طرف آواز بلند کرنے والے کو نظم و نسق کے نام پر دبایا جاتا ہے، دوسری طرف شناخت ثابت کرنے والا خود کو مشکوک سمجھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں معاملات صرف عدالتوں میں زیرِ بحث نہیں رہتے، بلکہ عوامی شعور، سیاسی زبان اور ریاستی طرزِ عمل میں بھی ان کے اثرات نظر آتے ہیں۔ جب کسی ملک میں احتجاج کو مشکوک اور شہریت کو مشروط بنا دیا جائے تو وہاں جمہوریت کا بنیادی مزاج بدلنے لگتا ہے۔ اور یہی تبدیلی بسا اوقات خاموشی سے آتی ہے۔
اب اس تصویر میں تیسرا اور شاید سب سے وسیع پہلو شامل ہوتا ہے: "مودی مشن 360” جیسی سیاسی سوچ۔ اگرچہ یہ کوئی سرکاری اعلان شدہ پروگرام نہیں، لیکن سیاسی مبصرین اسے حکمران جماعت کی اُس وسیع حکمتِ عملی سے جوڑتے ہیں جس کا مقصد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایسی اکثریت حاصل کرنا ہے جو محض حکومت چلانے کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل کے بڑے سیاسی اور آئینی فیصلوں کے لیے بھی کافی ہو۔
یہ سوچ بظاہر جمہوری ہے، کیونکہ جمہوریت میں اکثریت حاصل کرنا کوئی جرم نہیں۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اکثریت صرف انتخابی جیت تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کے ذریعے سیاسی، قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر فیصلہ کن اثر قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں "مشن” اور "غلبہ” کے درمیان لکیر باریک ہو جاتی ہے۔
اگر ایک جماعت پارلیمانی سطح پر بہت زیادہ طاقت حاصل کر لے تو وہ قانون سازی، آئینی ترمیم، ریاستی پالیسی، اور وفاقی توازن سب پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اس لیے "مودی مشن 360” کو صرف انتخابی اصطلاح سمجھنا کافی نہیں۔ اسے اس وسیع سیاسی رجحان کے طور پر دیکھنا چاہیے جس میں اقتدار کو زیادہ سے زیادہ مرکزیت دینے کی کوشش شامل ہو سکتی ہے۔
ہندوستانی سیاست میں انحراف کوئی نئی بات نہیں۔ پارٹی بدلنا، اتحاد توڑنا، یا نئے سیاسی دھڑوں میں شامل ہونا، آزادی کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔ مگر گزشتہ برسوں میں یہ رجحان اس حد تک نمایاں ہوا ہے کہ عوامی مینڈیٹ اور سیاسی وفاداری کے درمیان فرق اکثر دھندلا جاتا ہے۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور بعض دیگر ریاستوں کے تجربات نے یہ دکھایا کہ اسمبلی یا پارلیمنٹ کی عددی اکثریت ہمیشہ انتخابی اعتماد کا مکمل عکس نہیں ہوتی۔
یہ صورتحال اپوزیشن کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اگر اپوزیشن کے اندر نظریاتی وحدت نہ ہو، قیادت بٹی ہوئی ہو، اور علاقائی مفادات قومی حکمتِ عملی پر غالب آ جائیں، تو پھر حکمران جماعت کے لیے اپنی قوت بڑھانا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس خلا میں "مشن 360” جیسی حکمتِ عملی اور بھی موثر دکھائی دینے لگتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن صرف ردعمل پر قائم رہے گی، یا وہ ایک متبادل جمہوری بیانیہ بھی پیش کرے گی؟ اگر جواب صرف ردعمل میں رہا تو اقتدار کی یکطرفہ مرکزیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
ان سب کے بیچ عدلیہ ایک ایسے ستون کی طرح کھڑی نظر آتی ہے جو کبھی شہری آزادی کو سہارا دیتی ہے اور کبھی شہریت کے قانونی معیار کو واضح کرتی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے احتجاج کے حق میں ایک واضح لکیر کھینچی، جبکہ گواہاٹی ہائی کورٹ نے شہریت کے ثبوت کے لیے قانونی سختی کو برقرار رکھا۔ دونوں فیصلے مل کر یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستانی عدلیہ ایک ہی وقت میں ریاستی اختیار کو حدود میں بھی رکھنا چاہتی ہے اور قانونی تقاضوں کو مضبوط بھی۔
مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا اداروں کی یہ توازن قائم رکھنے والی حیثیت مستقبل میں برقرار رہ سکے گی؟ اگر سیاسی طاقت مزید مرکزیت اختیار کرتی ہے، تو اداروں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اگر ادارے کمزور ہوئے تو شہری آزادی، شہریت کے اصول اور سیاسی مقابلہ سب متاثر ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ ہندوستانی فضا کو صرف ایک انتخابی موسم سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ دراصل اداروں، بیانیوں، شناختوں اور حقوق کے درمیان ایک طویل کشمکش کا زمانہ ہے۔
اس پوری بحث میں سب سے اہم فریق عام شہری ہے۔ وہی احتجاج بھی کرتا ہے، وہی اپنی شہریت بھی ثابت کرتا ہے، اور وہی ووٹ دے کر اقتدار کی سمت بھی طے کرتا ہے۔ مگر اکثر وہی شہری اپنے آپ کو اس نظام میں سب سے کم محفوظ محسوس کرتا ہے۔ کبھی اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کا احتجاج نظمِ عامہ کے لیے خطرہ ہے، کبھی اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے وجود کا ثبوت دو، اور کبھی اس سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ سیاسی طاقت کے ارتکاز کو جمہوری کامیابی مان لے۔
جمہوریت کی اصل طاقت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب شہری صرف ووٹر نہ ہو، بلکہ بااختیار شہری بھی ہو۔ اگر شہری سوال نہ کر سکے، اپنے حق کا دفاع نہ کر سکے، یا اپنی شناخت ثابت کرنے میں ہی الجھا رہے، تو جمہوری نظام کی اندرونی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔
مستقبل کا ہندوستان اسی بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اختلاف کو کیسے دیکھتا ہے، شہریت کو کس انصاف کے ساتھ پرکھتا ہے، اور اکثریت کو کس حد تک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ اگر احتجاج کو جمہوری عمل کا حصہ مانا جائے، اگر شہریت کے معاملات میں شفاف اور انسانی طریقہ اختیار کیا جائے، اور اگر پارلیمانی اکثریت کو ادارہ جاتی توازن کے ساتھ جوڑا جائے، تو جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر اختلاف کو دبانے، شناخت کو مشکوک بنانے، اور اقتدار کو مکمل مرکزیت دینے کی روش غالب رہی تو پھر جمہوری ادارے اپنی معنویت کھو سکتے ہیں۔ اسی لیے آج کا ہندوستان صرف سیاسی کامیابیوں یا عدالتی فیصلوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سوالنامے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے ہر سوال کے جواب میں مستقبل کی سمت چھپی ہوئی ہے۔
موجودہ ہندوستانی صورتِ حال کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ دور آئینی اصولوں، ریاستی اختیار اور عوامی حق کے درمیان ایک مسلسل آزمائش کا زمانہ ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ بتاتا ہے کہ احتجاج کو جرم نہیں بنایا جا سکتا، گواہاٹی ہائی کورٹ کا فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ شہریت کا ثبوت آسان نہیں، اور "مودی مشن 360” کی بحث ظاہر کرتی ہے کہ اقتدار کی سیاست اب محض حکومت سازی تک محدود نہیں رہی۔
یہی تینوں عناصر مل کر آج کے ہندوستان کی اصل سیاسی کہانی بناتے ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں عدالتیں حدیں یاد دلا رہی ہیں، ریاست سختیاں آزما رہی ہے، اور سیاسی قوتیں مستقبل کی مکمل گرفت کی راہیں تلاش کر رہی ہیں۔ اس کہانی کا آخری باب اب بھی لکھا جا رہا ہے، اور اسے شہری شعور، ادارہ جاتی مضبوطی اور جمہوری توازن ہی بہتر سمت دے سکتے ہیں۔
مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ



