دہلی فسادات ۲۰۲۰ : دہلی پولس کا طاہر حسین کے لئے سزائے موت کا مطالبہ

شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے دوران ہوئے فسادات سے متعلق آئی بی اہلکار انکت شرما کے قتل کیس میں دہلی پولیس نے عدالت سے سابق عام آدمی پارٹی کونسلر طاہر حسین اور دیگر چار مجرموں کے لیے سزائے موت کی استدعا کی ہے۔ کرکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ کی عدالت میں پانچوں مجرموں کی سزا کی مدت پر حتمی بحث کے دوران دہلی پولیس کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے یہ مطالبہ پیش کیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتول انکت شرما کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول کے جسم پر تیز دھار ہتھیاروں اور لاٹھیوں کے 51 سے زائد شدید زخم پائے گئے تھے۔ پراسیکیوشن نے استدعا کی کہ جرم کی نوعیت اور ہلاکت کے طریقے کو مدنظر رکھتے ہوئے مجرموں کو قانون کے تحت دی جانے والی شدید ترین سزا یعنی سزائے موت دی جائے۔

دوسری جانب طاہر حسین کے وکیل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی کہ یہ معاملہ ‘شاذ و نادر ترین’ (Rarest of Rare) زمرے میں نہیں آتا۔ دفاعی کونسل کا کہنا تھا کہ صرف زخموں کی تعداد یا بھیڑ کی موجودگی کی بنیاد پر شدید ترین سزا نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے عدالتی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر نامزد 11 ملزمان میں سے صرف 5 کو مجرم گردانا گیا ہے جبکہ طاہر حسین کا جیل کے دوران رویہ بھی تسلی بخش رہا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سزا سناتے وقت تخفیف کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔

یہ کیس دیال پور تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 65/2020 سے متعلق ہے، جو مقتول کے والد کی شکایت پر درج کی گئی تھی۔ فسادات کے دوران انکت شرما کے غائب ہونے کے بعد ان کی لاش چاند باغ پلیا کے قریب ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔ کیس کی تفتیش کے بعد عدالت نے طاہر حسین سمیت جاوید، انس، ناظم اور قاسم کو تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا تھا، جبکہ سازش سے متعلق بعض دیگر دفعات سے بَری کر دیا تھا۔

عدالت میں دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد معاملہ حتمی حکم کے لیے زیر التوا ہے۔ انسانی حقوق اور قانونی اصولوں کے مطابق، عدالتی نظام میں جرم کی سنگینی کے ساتھ ساتھ منصفانہ سماعت اور تمام قانونی شواہد کی پاسداری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ توقع ہے کہ فاضل عدالت تمام معروضات، قانونی نکات اور شواہد کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد جلد اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔

شیئر کریں۔