طلبا کا مارچ : پولیس بربریت پر ملکی اخبارات کی یکطرفہ کوریج

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی نظام میں سنگین بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران پولیس کے تشدد، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ تاہم اس سنگین واقعے نے گودی میڈیا اور ملک کے بڑے اخبارات کی جانبداری کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن جنتر منتر پر جمع ہزاروں مظاہرین اور طلبہ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کو لے کر پارلیمنٹ مارچ کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز نے پُرامن مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا جس میں درجنوں افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اس شدید کریک ڈاؤن کے باوجود منگل کو شائع ہونے والے ملک کے بیشتر بڑے انگریزی اور ہندی اخبارات نے پولیس اور انتظامیہ کی جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زخمی مظاہرین کے مؤقف اور مظالم کو جگہ دینے سے پرہیز کیا۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ مسابقتی امتحانات کے شفاف انعقاد میں حکومت اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ احتجاج کے شدت اختیار کرنے پر جب مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس کی جانب سے شدید لاٹھی چارج کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تصادم میں شدید طور پر زخمی ہونے والے ۳۸ افراد کو لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج اور ۶۵ زخمیوں کو رام منوہر لوہیا اسپتال منتقل کیا گیا۔ جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ واقعے میں ۶۰ مظاہرین اور ۱۱۸ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ متعدد مظاہرین اور عینی شاہدین کے مطابق احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا لیکن پولیس نے پہلے انہیں زمین پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور پھر بلا اشتعال اچانک لاٹھیاں برسانا اور آنسو گیس کے گولے داغنا شروع کر دیے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔

اس پورے معاملے میں قومی میڈیا کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ ٹائمز آف انڈیا، دینک جاگرن، اور امر اجالا جیسے بڑے اخبارات نے اپنے پہلے صفحے پر پولیس کے موقف، ٹریفک کے مسائل اور سرکاری کہانی کو تو نمایاں انداز میں پیش کیا لیکن زخمی ہونے والے مظاہرین کے بیانات اور ان کی آپ بیتی کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ چند اخبارات کو چھوڑ کر زیادہ تر میڈیا ہاؤسز نے پولیس کے اس دعوے کو ہی سرخی بنایا کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا تھا، جبکہ مظاہرین کے مطابق یہ پولیس کے وحشیانہ رویے کے خلاف دفاعی ردعمل تھا یا محض الزام تراشی ہے۔ دینک جاگرن اور امر اجالا جیسے ہندی روزناموں نے پولیس کے ان دعوؤں پر زیادہ زور دیا کہ مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی، جس سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ مظاہرین ہی قصوروار ہیں۔

سیاسی سطح پر اس تنازع کے نتیجے میں مرکز کی بی جے پی حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں کی پیر کے روز بی جے پی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا کے ساتھ ہونے والی ملاقات بالکل بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ تحریک کے ترجمان آشوتوش رانکا کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا اور اب کسان اور طلبہ تنظیموں نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک حکومتی نمائندے خود احتجاجی مقام پر آ کر ٹھوس پیش رفت نہیں کرتے، کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ سڑکوں پر ہونے والے اس ہنگامے اور پولیس بربریت کا اثر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بھی دیکھا گیا جہاں اپوزیشن نے اس معاملے پر حکومت کو گھیرا اور شدید نعرے بازی کی جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی کرنی پڑی۔

امتحانی شفافیت اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے جاری یہ تحریک اب ایک بڑے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جنتر منتر کو پولیس کی جانب سے خالی کرائے جانے کی کوششوں کے باوجود مظاہرین نے دوبارہ دھرنا شروع کر دیا ہے اور صاف اعلان کیا ہے کہ جب تک وزیر تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے اور امتحانی نظام کی ازسرنو اصلاح نہیں کی جاتی، ان کی جدوجہد اور سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

شیئر کریں۔