قومی دارالحکومت نئی دہلی کے مشہور تجارتی مرکز کناٹ پلیس میں منعقد ہونے والے ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مارچ سے عین قبل دہلی پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا کو حراست میں رکھنے کے بعد ہفتے کی علی الصبح رہا کر دیا۔ دوسری جانب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور پولیس انہیں اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کی عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق نیہا بورا کو دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت احتیاطی اقدام کے طور پر تحویل میں لیا گیا تھا اور قانونی لوازمات مکمل ہونے کے بعد انہیں آزاد کر دیا گیا۔ البتہ ابھیجیت دیپکے کے خلاف ’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا‘ (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 170 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی بحالی اور دارالحکومت میں ٹریفک نظام کو کسی بھی قسم کے خلل سے بچانے کے لیے تقریباً 150 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
رہائی پانے کے فوراً بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئسا صدر نیہا بورا نے پولیس اور انتظامیہ پر آئینی حقوق کی سنگین پامالی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں پرامن شہریوں اور طلبہ کے ساتھ سنگین جرائم کے مرتکب افراد جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین کے ساتھ پولیس رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قواعد و ضوابط کے تحت خواتین کو رات بھر غیر قانونی طور پر تھانے میں روک کر رکھا گیا، جو کہ بنیادی قانونی طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
نیہا بورا نے انکشاف کیا کہ گرفتاری کے دوران انہیں کئی گھنٹوں تک اپنے قانونی مشیروں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وکلاء کو ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے شدید جدوجہد کرنا پڑی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ علالت کے باوجود پولیس نے انہیں ضروری ادویات فراہم کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی کے مختلف راستوں کو بند کر کے شہریوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے، جس سے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
یہ تنازع دراصل اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سی جے پی کے اراکین سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے بعد تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مظاہرے کے آغاز سے قبل ہی دہلی پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو اٹھا لیا۔ دارالحکومت میں جمہوری حقوق کے تحفظ، شہریوں کی آزادی اور انتظامی کارروائیوں کے اس طریقہ کار پر اب سماجی اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
جمہوری اور پرامن احتجاج شہریوں کا بنیادی اور آئینی حق مانا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب دارالحکومت میں آئے روز احتجاج کرنے والوں کو بغیر ٹھوس الزامات کے تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی جانب سے دہلی پولیس کے احتیاطی اقدامات کے طریقہ کار پر مستقل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں عدالت کی جانب سے آئندہ پیش رفت پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔




