دہلی این سی آر میں سی این جی 86 روپے کے پار، کانگریس کا الزام: 6 سال میں قیمتیں دوگنی ہو گئیں

قومی دارالحکومت دہلی اور ملحقہ این سی آر کے علاقوں میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں فی کلوگرام 3.89 روپے کا بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گیس کی سپلائی کرنے والی اہم کمپنی اندراپرستھ گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل) کی جانب سے بڑھائی گئی یہ نئی قیمتیں ہفتہ کی صبح 6 بجے سے باقاعدہ نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد قومی راجدھانی کے خطے میں سی این جی کی فی کلو قیمت بڑھ کر 86.98 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

سی این جی کی قیمتوں میں اس تازہ اضافے پر حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ حکومت کا مہنگائی پر کوئی قابو نہیں ہے اور عوام پر مسلسل مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ کانگریس کے مطابق اگست 2020 میں سی این جی کی قیمت 43.80 روپے فی کلو تھی جو اب اگست 2026 میں بڑھ کر تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ پارٹی نے اعداد و شمار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران سی این جی کی قیمتوں میں تقریباً 99 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

اس اضافے کا براہ راست اثر دہلی اور گردونواح کے لاکھوں پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیورز، خصوصاً آٹو رکشہ، ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کے مالکان پر پڑ رہا ہے۔ مقامی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش سمیت ہر بنیادی ضرورت پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہے، اور اب ایندھن کے نرخ بڑھنے سے ان کی روزانہ کی کمائی شدید متاثر ہوگی۔ ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو آٹو اور کیب کے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا، جس کا حتمی بوجھ عام شہری کی جیب پر پڑے گا۔

دوسری جانب اندراپرستھ گیس لمیٹڈ نے قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے بین الاقوامی منڈی کے حالات کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کے ایک بیان کے مطابق گھریلو ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گیس کا ایک بڑا حصہ باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر توانائی کے بحران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کی وجہ سے درآمدی ایل این جی کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر یہ جزوی اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سی این جی کے نرخوں میں اضافے سے این سی آر میں لاجسٹکس اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ کی دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ ٹرانسپورٹ یونینز کی جانب سے آنے والے دنوں میں کرایوں کے از سر نو تعین کے مطالبات زور پکڑ سکتے ہیں۔

شیئر کریں۔