دہلی ہائی کورٹ نے اتوار کے روز معروف سماجی کارکن اور تعلیمی مصلح سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے شوہر کو سرکاری صفدر جنگ ہسپتال سے کسی نجی ہسپتال میں منتقل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سونم وانگچک گزشتہ 17 دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک اور پرخطر مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وانگچک کو دھرنے کی جگہ سے ہسپتال منتقل کرنے کا انتظامیہ کا فیصلہ ان کی گرتی ہوئی صحت کو بچانے کے لیے تھا، اس لیے اسے کسی بھی طور پر غیر قانونی یا من مانا اقدام نہیں کہا جا سکتا۔
سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے صفدر جنگ ہسپتال کی نیت اور میڈیکل رپورٹس پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہسپتال انتظامیہ نے زبانی طور پر انہیں بتایا تھا کہ وانگچک کے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار خطرناک حد تک گر کر 2.9 ہو گئی ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، لیکن سرکاری ہیلتھ بلیٹن میں اس مخصوص ہندسے کو چھپا کر صرف پوٹاشیم کم ہونے کا مبہم ذکر کیا گیا۔ گیتانجلی کے مطابق جب انہوں نے ایک نجی اور آزاد لیبارٹری سے وانگچک کے خون کے ٹیسٹ کروائے تو پوٹاشیم کی مقدار 3.5 آئی جو کہ بالکل نارمل حدود میں ہے۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ ان کے شوہر کو ڈسچارج کرنے یا نجی ہسپتال منتقل کرنے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں اور ہسپتال کے اندر اور باہر سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جو کہ طبی دیکھ بھال نہیں بلکہ غیر قانونی حراست ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک گزشتہ 28 جون سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ بھوک ہڑتال ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کی جانب سے ملک میں مسابقتی امتحانات (NEET اور دیگر) میں ہونے والی مبہنہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے خلاف شروع کی گئی سیاسی مہم کا حصہ ہے، جس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سنیچر کی صبح دہلی پولیس نے جنتر منتر پر قائم احتجاج گاہ سے وانگچک کو زبردستی اٹھا کر صفدر جنگ ہسپتال منتقل کر دیا تھا۔ ہسپتال کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ان کے بنیادی طبی پیرامیٹرز مستحکم ہیں لیکن خون کی رپورٹ میں معمولی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
سونم وانگچک کو پولیس کے ذریعے زبردستی ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر پر ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے اور ملک بھر میں پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت آمریت پر اتر آئی ہے لیکن سونم وانگچک کو ہسپتال بھیجنے سے یہ تحریک ختم نہیں ہوگی۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آغاز پر پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ رہنما بھی طلبہ کے حقوق کے لیے صفدر جنگ ہسپتال کے باہر اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جمہوری معاشرے میں پرامن احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے، لیکن جب بات کسی حساس نظریاتی یا تعلیمی اصلاحات کی تحریک کے رہنما کی زندگی کی ہو تو انتظامیہ اور عدلیہ کی اولین ترجیح انسانی جان کو بچانا بن جاتی ہے۔ تعلیمی نظام میں شفافیت کی یہ لڑائی اب عدالتی کارروائی اور سڑکوں پر جاری مظاہروں کے درمیان ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔




