’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے نام پر یلاپور کے کسان سے ایک کروڑ 74 لاکھ کی خطیر رقم لوٹ لی گئی

کاروار (فکروخبرنیوز) ضلع اتر کنڑا کے یلاپور تعلقہ میں ایک ضعیف العمر کسان اور ایل آئی سی ایجنٹ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ (Digital Arrest) کا جھانسہ دے کر 1.74 کروڑ روپے کی بھاری رقم لوٹ لینے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یلاپور کے امچگی  کے رہائشی 69 سالہ شیوآنند ہیگڑے کو 21 اپریل کو ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ کال کرنے والے نے خود کو ممبئی پولیس ہیڈ کوارٹر کا افسر ظاہر کیا اور ہیگڑے کو خوفزدہ کیا کہ ان کے آدھار کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے کینرا بینک میں ایک مشکوک کھاتہ کھولا گیا ہے جو منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔

اس کے بعد دھوکہ بازوں نے آئی پی ایس اور ڈی آئی جی افسران بن کر ویڈیو کال کی اور ہیگڑے کو بتایا کہ وہ ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ کے تحت ہیں، یعنی وہ اپنے گھر سے باہر نہیں جا سکتے اور نہ ہی کسی کو اس بارے میں بتا سکتے ہیں۔ انہیں دھمکایا گیا کہ کیس سے بچنے کے لیے انہیں اپنی تمام رقم ‘ریزرو بینک’ کے تصدیقی کھاتوں میں منتقل کرنی ہوگی۔

خوفزدہ ہو کر شیوآنند ہیگڑے نے 21 اپریل سے 24 اپریل کے درمیان مختلف مرحلوں میں کل ایک کروڑ 74 لاکھ روپے دھوکہ بازوں کے بتائے ہوئے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے۔

جب کئی دنوں تک کوئی جواب نہیں ملا تو ہیگڑے کو احساس ہوا کہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر کاروار سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ہندوستانی قانون میں ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ جیسا کوئی تصور یا قانون موجود نہیں ہے۔ پولیس، سی بی آئی یا کسٹم حکام کبھی بھی ویڈیو کال پر کسی کو گرفتار نہیں کرتے اور نہ ہی پیسے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایسی کسی بھی مشکوک کال کی صورت میں گھبرانے کے بجائے فوری طور پر مقامی پولیس یا نیشنل سائبر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کریں۔

شیئر کریں۔