کانوڑ یاترا کے راستوں پر بلاضرورت جانے سے پرہیز کریں: دارالعلوم دیوبند کا طلبا کو مشورہ

ہندوستان کے معروف اور تاریخی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند نے سالانہ کانوڑ یاترا کے پیش نظر اپنے تمام طلبا کی سلامتی، تحفظ اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور باضابطہ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ادارے کی انتظامیہ نے طلبا کو کانوڑ یاترا کے مخصوص راستوں اور رش والے علاقوں میں غیر ضروری رفت و آمد سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تصادم یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

دارالعلوم دیوبند کے ہاسٹل انچارج مولانا اشرف عباس کی جانب سے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں وضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ طلبا کی شخصی سیکورٹی اور تعلیمی احاطے کے ڈسپلن کو برقرار رکھنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ ایڈوائزری میں خصوصی طور پر تاکید کی گئی ہے کہ طلبا جی ٹی روڈ اور کانوڑیوں کے مرکزی گزرگاہوں پر غیر ضروری طور پر نہ نکلیں۔ اگر کوئی انتہائی ضروری کام پیش آئے تو طلبا مکمل احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہی باہر جائیں۔

انتظامیہ نے سفر کرنے والے طلبا کے لیے بھی سخت ہدایات طے کی ہیں۔ ہدایت نامے کے مطابق، سفر کرنے والے طلبا کو صرف ریزرو ریلوے کوچز استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند کا جاری کردہ شناختی کارڈ (آئی ڈی کارڈ) ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔ مزید برآں، انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد کسی بھی طالب علم کو شناختی کارڈ دکھائے بغیر ادارے کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں کانوڑ یاترا کے دوران گاڑیوں پر حملوں، پولیس سے تصادم اور شدید ٹریفک جام کے واقعات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اقلیتی اداروں کے طلبا اور مقامی شہریوں کے لیے املاک و جان کا تحفظ ایک اہم ترین ترجیح بن جاتا ہے۔ ادارے کی اس دانشمندانہ پہل کو طلبا کی حفاظت اور علاقے میں امن و امان کی فضا کو بحال رکھنے کے لیے انتہائی سنجیدہ اور وقت کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کا ماننا ہے کہ احتیاطی تدابیر اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہو کر کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے باآسانی بچا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی سطح پر ذمہ داران اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ طلبا کی تعلیم بلا کسی خوف و خطر اور معمول کے مطابق جاری رہے، جبکہ متعلقہ اداروں اور پولیس انتظامیہ سے بھی ٹریفک اور سیکورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کی توقع رکھی جا رہی ہے۔

شیئر کریں۔