اتر کنڑا (فکروخبر نیوز) بھٹکل سمیت ضلع اتراکنڑا کےدیگر علاقوں میں مون سون کے دوران ہی گرمی کا احساس بڑھ گیا ہے اور بارش کی کمی نے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔
گزشتہ دنوں ساحلی اتر کنڑا میں بارش کے وقفے کے باعث موسم میں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ صبح کے وقت بادل اور ہلکی خنکی کے بعد بعض مقامات پر دن کے اوقات میں دھوپ تیز ہوجاتی ہے جبکہ ہوا میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی اور حبس کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ بھٹکل، ہوناور اور کمٹہ جیسے ساحلی علاقوں میں موسم کی موجودہ پیش گوئیوں میں بھی زیادہ نمی، ابر آلود موسم اور محدود بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اتر کنڑا عام طور پر ریاست کے زیادہ بارش والے اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے مطابق یہاں تقریباً 140 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے اور مون سون کے دوران ضلع میں بھاری بارش ہوتی ہے۔ دریائے کالی، گنگاولی، اگناشینی، شراوتی اور وینکٹاپور سمیت کئی اہم ندیاں ضلع سے گزرتی ہیں۔ اس کے باوجود رواں سال بارش کے انداز میں تبدیلی نے بعض علاقوں میں پانی اور زراعت کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔
ریاستی سطح پر بھی رواں سال مون سون کی صورتحال معمول کے مطابق نہیں رہی۔ اگست کے اختتام تک کرناٹک کے بیشتر اضلاع میں بارش معمول سے کم ریکارڈ کی گئی، جبکہ ساحلی اور ملناڈ علاقوں کے بعض حصوں میں بھی 20 سے 36 فیصد تک بارش کی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ حکومت نے پہلے مرحلے میں 101 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا ہے، جن میں 89 کو شدید اور 12 کو درمیانی درجے کا متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید تعلقہ جات کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق ستمبر میں بھی ریاست کے بعض حصوں میں معمول سے کم بارش کا امکان ہے۔ ساحلی اور ملناڈ علاقوں میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے تاہم اتر کنڑا، دکشن کنڑا اور اڈپی میں شدید بارش کے واضح امکانات نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں چند دنوں تک بارش کا وقفہ رہنے سے درجہ حرارت بڑھنے اور حبس میں اضافہ ہونے کا امکان برقرار ہے۔




