طبی دنیا اور عوامی صحت کے تحفظ کے حوالے سے مرکزی حکومت نے ایک انتہائی اہم اور سخت ترین فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ سال ملک کے مختلف حصوں میں کھانسی کا سیرپ پینے سے معصوم بچوں کی ہلاکتوں کے بعد، مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے منگل کے روز ایک ملک گیر نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے تحت اب ملک بھر میں کف سیرپ سمیت منہ کے ذریعے لی جانے والی کسی بھی قسم کی مائع دوا (سیرپ) کو ڈاکٹر کے تحریری نسخے (پرچی) کے بغیر فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔ حکومت نے ادویات کی دکانوں پر ‘اوور دی کاؤنٹر’ (او ٹی سی) یعنی بغیر معائنے کے سیرپ خریدنے کے رواج کو قانونی طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ ہونے والے کھلواد کو روکا جا سکے۔
یہ تاریخی اور حساس تبدیلی حکومت کی جانب سے ‘ڈرگز رولز، 1945’ میں ایک بنیادی ترمیم کے ذریعے کی گئی ہے، جسے ‘ڈرگز (پانچواں ترمیمی) رولز، 2026’ کا نام دیا گیا ہے۔ حکومت نے نو جون کو اس ترمیم کو سرکاری گزٹ میں باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کیا تھا، جس کے تحت ‘شیڈول-کے’ میں شامل مستثنیٰ ادویات کی فہرست سے تمام اقسام کے سیرپ کو فوری طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ‘شیڈول-کے’ میں اب تک ایسی ادویات شامل ہوتی تھیں جن کی تیاری، سپلائی اور فروخت کے لیے بعض سخت ضوابط اور فارمیسی قوانین سے چھوٹ حاصل تھی، لیکن اس کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ میں غیر معیاری اور زہریلی دوائیں دھڑلے سے فروخت ہو رہی تھیں۔
اس سخت ترین قانون سازی کا پس منظر انتہائی دردناک اور چونکا دینے والا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں مدھیہ پردیش کے صنعتی شہر چھندواڑہ اور پڑوسی ریاست راجستھان سے ایسے ہولناک واقعات سامنے آئے تھے جنہوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہاں مارکیٹ میں دستیاب کف سیرپ پینے کی وجہ سے متعدد معصوم بچوں کے گردے اچانک فیل ہو گئے اور وہ تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان اموات کے بعد جب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) اور اعلیٰ طبی ماہرین کی ٹیموں نے لیبارٹریوں میں ان سیرپس کی کیمیائی جانچ کی، تو یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ کھانسی کی ان دواؤں میں ‘ڈائیتھلین گلائیکول’ (ڈی ای جی) نامی زہریلے کیمیکل کی مقدار 48 فیصد سے بھی زیادہ پائی گئی، جبکہ بین الاقوامی طبی معیارات کے مطابق کسی بھی دوا میں اس کی قابل قبول حد صرف 0.1 فیصد ہونی چاہیے۔
اس جان لیوا غفلت اور دوا ساز کمپنیوں کی مجرمانہ لاپرواہی کے سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا، بالخصوص غریب اور متوسط خاندانوں کے بچوں کے حقوق اور تحفظِ حیات کو لے کر طبی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی تھی۔ مرکزی حکومت نے اس سنگین بحران کا نوٹس لیتے ہوئے ‘ڈرگز ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ’ (ڈی ٹی اے بی) سے تفصیلی مشاورت کی اور ملک بھر سے آنے والے اعتراضات، عوامی تجاویز اور ماہرین کی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نئے ضابطے کی منظوری دی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ قواعد گزٹ میں شائع ہوتے ہی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکے ہیں اور کسی بھی سطح پر اس کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیکل اسٹور مالکان اور دوا سازوں کے خلاف سخت فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
طبی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ دور دراز کے دیہی علاقوں اور غریب بستیوں میں جہاں ڈاکٹروں کی رسائی کم ہے، وہاں اس قانون کے نفاذ کے دوران عام لوگوں کو مشکلات سے بچانے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ دواؤں کے تصدیقی نظام کو فول پروف بنانا اور غریب ترین طبقات کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہی ایسے حادثات کا مستقل حل ہے۔ اب الیکشن کمیشن اور وزارتِ صحت کی گہری نگرانی میں تمام ریاستوں کے ڈرگ کنٹرولرز کو اپنے اپنے اضلاع میں میڈیکل اسٹورز کی ہنگامی تفتیش اور اسٹاک کی جانچ پڑتال تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔




