تہلکہ کے سابق چیف ایڈیٹر ترون تیج پال کو بڑا دھچکا، ہائی کورٹ نے سنایا 10 سال قید کا فیصلہ

ہندوستان کے مشہور مجلہ ‘تہلکہ’ کے بانی اور سابق چیف ایڈیٹر ترون تیج پال کو بمبئی ہائی کورٹ نے 2013 کے ایک دہائی سے زائد پرانے جنسی ہراسانی اور ریپ کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بینچ نے گوا سیشن کورٹ کی جانب سے 2021 میں تیج پال کو تمام الزامات سے بری کرنے کے فیصلے کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے نہ صرف قید کی سزا سنائی بلکہ ملزم پر 10 لاکھ روپے سے زائد (تقریباً 10,500 ڈالر) کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

جسٹس نیلا گوکھلے اور جسٹس امیت جمساندیکر پر مشتمل ڈبل بینچ نے ترون تیج پال کو بھارتی تعزیرات ہند (IPC) کی دفعہ 376(2)(f) سمیت جنسی زیادتی اور جسمانی ہراسانی سے متعلق دیگر اہم دفعات کے تحت مجرم پایا۔ واضح رہے کہ یہ دفعہ ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو کسی ادارے یا جگہ پر اقتدار، بھروسے یا بالا دستی کی پوزیشن پر فائز ہوں۔ بمبئی ہائی کورٹ نے گوا حکومت کی اس اپیل کو منظور کیا جس میں سیشن کورٹ کے 527 صفحات پر مشتمل متنازع فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سیشن کورٹ نے اس وقت متاثرہ خاتون کے واقعے کے بعد کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے ملزم کو بری کیا تھا، جس پر انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران گوا حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سالیسیٹر جنرل تتشار مہتا نے عدالت عالیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے معاشرے اور خواتین کو یہ مضبوط اور واضح پیغام جانا چاہیے کہ ‘انکار کا مطلب صرف انکار ہوتا ہے’۔ دوسری جانب 62 سالہ ترون تیج پال نے سزا سنائے جانے سے قبل عدالتی کارروائی میں نرمی کی درخواست کی اور خود کو سیاسی انتقام کا نشانہ قرار دیا، تاہم عدالت نے ان تمام عذروں کو مسترد کر دیا۔ تیج پال نے اب اس فیصلے کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ معاملہ نومبر 2013 کا ہے جب گوا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقدہ ‘تہلکہ تھنک فیسٹ’ کے دوران ہوٹل کی لفٹ میں ایک جونیئر خاتون صحافی نے تیج پال پر سنگین جنسی ہراسانی اور ریپ کا الزام عائد کیا تھا۔ اس واقعے نے اس وقت پورے ملک میں شدید ردعمل پیدا کیا تھا کیونکہ یہ دہلی کے 2012 والے الم ناک اجتماعي ریپ واقعے کے بعد ملک بھر میں جنسی تشدد کے خلاف اٹھنے والی شدید تحریک کے بعد سامنے آیا تھا۔ ترون تیج پال کو 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے سات ماہ جیل میں گزارے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت فراہم کی تھی۔

قابلِ ذکر ہے کہ ترون تیجپال نے 2000 میں تحقیقی جریدہ "تہلکہ” کی مشترکہ بنیاد رکھی تھی، جس نے متعدد اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے قومی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان میں "آپریشن ویسٹ اینڈ” خاص طور پر نمایاں رہا، جس میں خفیہ کیمروں کے ذریعے دفاعی سودوں میں مبینہ بدعنوانی کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے ترون تیجپال طویل عرصے تک ہندوستان کی تحقیقی صحافت کی ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے رہے۔

شیئر کریں۔