‘بابری مسجد کی طرح گاندھی خاندان کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔ کرناٹک بی جے پی ایم ایل اے کی راہل گاندھی کو دھمکی ، مقدمہ درج

کرناٹک کے شہر اڈپی میں پولیس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی یشپال سورنا کے خلاف ایک اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تقریر کے الزام میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ یہ مقدمہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، نیٹ امتحانات کے پیپر لیک خلاف احتجاج کرنے والے طلباء اور کانگریس کارکنان کے خلاف ان کے انتہائی متنازعہ بیانات پر قائم کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق، یہ مقدمہ اڈوپی ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک کمار کوڈاوور کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ یشپال سورنا پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران راہل گاندھی کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انہیں منشیات کا عادی قرار دیا۔ بات یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نے دھمکی دی کہ جس طرح ان کے کارکنوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا، اسی طرح کانگریس اور گاندھی خاندان کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے طلباء پر بھی لفظی حملے کیے۔ پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جن میں مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی پھیلانا، فساد پر اکسانا اور مجرمانہ دھمکیاں دینا شامل ہیں۔

یشپال سورنا نے اسی خطاب کے دوران راہل گاندھی پر ذاتی نوعیت کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی نے قومی اہلیت و داخلہ امتحان (NEET) کے مسئلے پر پہلے اس لیے آواز نہیں اٹھائی کیونکہ وہ مبینہ طور پر "نشے کی حالت” میں تھے، اور ہندوستان واپس آنے کے بعد ہی اس معاملے پر بولنا شروع کیا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اڈپی، جو تعلیم کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، وہاں بعض بیرونی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ طلبہ کو منشیات فراہم کرکے انہیں ملک مخالف نظریات کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کے حق میں انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

اپنی تقریر میں یشپال سورنا نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والوں کی شناخت کی جائے، جبکہ بی جے پی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ "اپنے انداز میں انصاف” کرنے کے لیے لاٹھیاں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اسے مخالفین کے لیے "وارننگ” قرار دیا۔

بی جے پی رکنِ اسمبلی نے معروف اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرکاش راج ملک کے خلاف فنکاروں کے ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں اور خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ "بحیرۂ عرب میں مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے”۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہندوستان میں ہونے والے بعض احتجاجی مظاہروں کے پیچھے بیرونی طاقتوں اور غیر ملکی فنڈنگ کا ہاتھ ہے۔

یشپال سورنا کا متنازعہ بیانات سے پرانا تعلق ہے اور وہ اکثر اپنے سیاسی بیانیے کو شدت پسندی کے ساتھ پیش کرتے آئے ہیں۔ یہ وہی بی جے پی رہنما ہیں جنہوں نے 2022 میں کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے دوران بھی انتہائی سخت موقف اختیار کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اپنے آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے کھڑی ہونے والی مسلم طالبات کو مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی رکن اور ملک دشمن قرار دیا تھا۔ حالیہ مظاہرہ بی جے پی کی جانب سے کانگریس اور نیٹ کے معاملے پر احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف اڈوپی میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ایک بار پھر نفرت انگیز سیاست کا سہارا لیا۔

اس واقعے نے ریاست کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر منجوناتھ بھنڈاری نے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں سیاسی اختلافات کا جواب دھمکیوں سے نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ پیپر لیک جیسے سنگین مسئلے پر آواز اٹھانے والوں کو ذاتی حملوں اور نفرت انگیز تقریروں سے ڈرانا بی جے پی کی طلباء دشمن ذہنیت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو اس تقریر کے دوران وہاں موجود تھے اور خاموش تماشائی بنے رہے۔

کانگریس کی جانب سے اس واقعے کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ تفتیشی اداروں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے اور تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ منجوناتھ بھنڈاری نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریاستی وزیر داخلہ پریانک کھرگے سے باضابطہ ملاقات کر کے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں گے تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں۔